خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 254

*1946 254 خطبات محمود سننے کے لئے تو تیار ہو جاتی ہے لیکن مذہبی جھگڑے کا اگر اس کے پاس ذکر کیا جائے تو وہ اس کے سننے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ایک امریکہ کا آدمی یہ محسوس بھی نہیں کر سکتا کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے کوئی قوم دوسری قوم پر ظلم کر سکتی ہے۔ایک انگلستان کا آدمی یہ محسوس بھی نہیں کر سکتا کہ مذہبی اختلاف کبھی ایسی خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے کہ ایک دوسری قوم کو اپنے مظالم کا تختہ مشق بنالے۔ایک فرانس کا آدمی یہ کبھی خیال بھی نہیں کر سکتا کہ مذہبی اختلافات بھی اس قابل ہیں کہ ان کی اہمیت کو محسوس کیا جائے۔یہی حال اور ممالک کا ہے اِلَّا مَا شَاءَ اللہ کہ ان میں سے کوئی ملک بھی مذہبی جھگڑوں کو کسی قسم کی اہمیت نہیں دیتا۔اسی لئے جب کبھی کوئی سیاسی مسئلہ ان کے سامنے آتا ہے تو دوسری قوموں کے سیاست دان صرف اس نقطہ نگاہ سے اس پر غور کرتے ہیں کہ ڈیما کریسی یعنی جمہوریت کے اصول کے مطابق اس مسئلہ کی کیا قیمت ہے۔جو مسئلہ جمہوریت کے نقطہ نگاہ سے انہیں صحیح معلوم ہوتا ہے اس کی وہ تائید کر دیتے ہیں اور جو مسئلہ جمہوریت کے نقطہ نگاہ سے انہیں صحیح معلوم نہیں ہوتا اس کو وہ رد کر دیتے ہیں۔مثلاً جمہوریت کہتی ہے کہ اگر کسی ملک کے چار آدمی ہوں تو ان میں سے تین جو کچھ کہیں گے وہ درست ہو گا۔اور ایک شخص جو کچھ کہے گا وہ درست نہیں ہو گا۔چونکہ ہندوستان میں مسلمان ایک ہے اور ہندو تین۔اس لئے امریکہ جب مسلمانوں کی آواز کو سنتا ہے تو کہتا ہے کہ یہ بالکل فضول مطالبہ ہے۔ہندو جو کچھ کہتے ہیں وہ درست ہے۔اسی طرح انگلستان والا جب سنتا ہے کہ مسلمان کہتے ہیں کہ ہمارے مطالبات مانے جائیں تو وہ ہنستے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے ہم ایک کی بات مانیں یا تین کی بات مانیں۔تین کے مقابلہ میں ایک کا آواز اٹھانا تو بیوقوفی ہے۔اور اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ ڈیما کریسی نہ رہی بلکہ بادشاہت ہو گئی۔یہی حال فرانس والوں کا ہے۔وہ بھی جب مسلمانوں کے حالات سنتے ہیں تو جمہوریت کے اصول کے مطابق وہ ہندوؤں کی تائید کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔مذہبی نقطہ نگاہ ان کے نزدیک کسی توجہ کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔ان کے اپنے ملک میں مذہب کو اس طرح نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ مذہب کا کوئی احساس بھی ان کے دلوں میں نہیں رہا۔اور چونکہ وہاں مذہبی اختلاف کی وجہ سے کوئی قوم دوسری قوم پر ظلم نہیں کرتی۔اس لئے جب مسلمان مذہبی اختلاف کی بناء پر