خطبات محمود (جلد 27) — Page 253
*1946 253 خطبات محمود کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہندو ہندوستان میں اپنی آواز بلند کرتے ہیں لیکن امریکہ میں بھی اگر کوئی مضمون نکلتا ہے تو ہندوؤں کی تائید میں، مسلمانوں کی تائید میں نہیں نکلتا۔انگلستان کے اخبارات میں بھی اگر مضامین شائع ہوتے ہیں تو ننانوے فیصدی ہندوؤں کی تائید میں ہوتے ہیں۔پھر امریکہ اور انگلستان کا ذکر جانے دو اپنے گھر میں یعنی فلسطین، شام اور مصر میں بھی جب مضامین نکلتے ہیں تو ان میں اکثر ہندوؤں کی تعریف میں ہوتے ہیں۔لڑکی میں بھی اگر مضامین نکلتے ہیں تو اکثر ہندوؤں کی تائید میں ہوتے ہیں۔آخر وجہ کیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف رائے رکھتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے پروپیگنڈا کی قیمت کو سمجھا اور ہر جگہ اپنے نمائندے بھجوائے لیکن مسلمانوں نے پروا نہیں کی۔وہ اس خیال میں مست رہے کہ بس ہم جو بھی ارادہ کریں گے اسے پورا کر کے رہیں گے۔ہمیں اس بات کی پروا نہیں کہ دنیا کی رائے ہمارے مخالف ہے یا موافق۔سیدھی بات ہے کہ دنیا کی رائے بڑی بھاری اہمیت رکھتی ہے۔ہماری زبان میں مثل مشہور ہے کہ اگر تم کسی انسان کو کتا کہنا شروع کر دو تو تھوڑے دنوں کے بعد ہی لوگ اسے کتا سمجھنا شروع کر دیں گے۔اگر کسی کو بُرا کہو تو اسے بُرا کہنے لگ جائیں گے۔اچھا کہو تو اچھا کہنے لگ جائیں گے۔چونکہ ہر ملک میں ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف پروپیگینڈا کیا اس لئے آج یہ حالت ہے کہ ایک مسلمان بھی دوسرے مسلمان کے خلاف رائے رکھتا ہے۔اور ہر ملک میں گاندھی جی یا کانگرس کی تائید میں ہی آواز اٹھتی ہے۔اگر مسلمانوں کی تائید میں کوئی آواز اٹھتی ہے تو وہ اول تو بہت محدود ہوتی ہے اور پھر کبھی بھی وہ اس جوش و خروش سے بلند نہیں ہوتی جس جوش و خروش سے کانگرس کی تائید میں آواز بلند ہوتی ہے۔یہ بھی ایک بڑی بھاری کمزوری تھی جس کی وجہ سے آج کمیشن بڑی دلیری سے مسلمانوں کے حقوق کو تلف کرنے کے لئے تیار ہو گیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیا کی آواز میری تائید میں ہے۔لیکن اگر ہندو کے حقوق کو میں نے تلف کیا تو ساری دنیا میں میرے خلاف شور مچ جائے گا۔تیسری چیز یہ ہے کہ ساری دنیا میں سیاسی جھگڑے ہیں لیکن مذہبی جھگڑے صرف چند ملکوں میں ہیں جن میں سے ایک ہندوستان بھی ہے۔اس وجہ سے دوسری دنیا سیاسی جھگڑے