خطبات محمود (جلد 27) — Page 202
1946ء 202 خطبات محمود حامل بنایا ہے۔ اگر ہماری جماعت کے افراد دیانتداری اور اخلاص کے ساتھ دین کے حامل نہیں ہوں گے تو خدا تعالیٰ احمدیوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گا جو ایک بادشاہ اپنے باغیوں کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ میں متواتر اور بار بار جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ ہمارے تبلیغی ادارے کمزور ہو رہے ہیں اور تبلیغ کی وسعت جو ہمارے ذمہ لگائی گئی ہے اس کا اندازہ اتنازیادہ ہے کہ اس کے لئے ہمیں اپنے آدمیوں کو قربانی کے تنور میں اس طرح جھونکنا پڑے گا جس طرح بھٹی والا اپنی بھٹی میں پتے جھونکتا ہے۔ مگر باوجود اس کے میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں پوری طرح بیداری پیدا نہیں ہو رہی۔ میں مایوس تو نہیں کیونکہ ہر چیز آہستہ آہستہ آتی ہے لیکن میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ جماعت کی سستی کی وجہ سے ہمارے کاموں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ میں نے پچھلے سال جماعت کو مدرسہ احمد یہ میں داخلہ کی طرف توجہ دلائی تھی اور کہا تھا کہ اگر تم اپنے لڑکوں کو اس مدرسہ میں داخل نہیں کرو گے تو آخر اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کے لئے ہم کہاں سے مبلغ لائیں گے۔ اس سال خدا تعالیٰ نے جماعت کو توفیق عطا فرمائی اور چالیس کے قریب لڑکے مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت میں داخل ہوئے لیکن آج جب میں نے پتہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس سال صرف چھ لڑکے داخل ہوئے ہیں اور چونکہ کچھ لڑکے بعد میں نکل بھی جاتے ہیں اس لئے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ قریباً قریباً اس جماعت کا بند کر دینا زیادہ اچھا ہے بہ نسبت اس کو جاری رکھنے کے۔ کیونکہ دو تین لڑکوں کے لئے کسی سکول یا جماعت کے کھولنے کے کوئی معنے ہی نہیں ہو سکتے۔ لیکن دوسری طرف یہ حالت ہے کہ جماعتیں ہم سے آدمی ضرور مانگتی ہیں۔ جب بھی کوئی شخص ملتا ہے یہی کہتا ہے کہ یہاں کے ناظر بڑے سست ہیں، انجمن بڑی سست ہے۔ ہم چٹھیاں لکھتے رہتے ہیں لیکن ہماری طرف کوئی آدمی نہیں بھیجتے۔ میں حیران ہوں کہ ایسے لوگوں کے دماغ میں کوئی فتور ہے یا روحانیت کی کمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا ہے کہ اتنی موٹی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر ہم اپنے لڑکے نہیں بھیجوائیں گے تو وہ لوگ مبلغ کہاں سے بھیجیں گے۔ کئی احمقوں کو میں نے دیکھا ہے وہ لٹھ لے کر عورت کو مارنا شروع کر دیتے ہیں اور