خطبات محمود (جلد 27) — Page 200
1946ء 200 خطبات محمود اس کے بڑے افراد میں قربانی اور ایثار کا مادہ نہ رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ڈینیوب دریا 1 کے کناروں اور یورال 2 کے کناروں اور بحیرہ ہند کے کناروں سے سمٹتے سمٹتے وہ ایک چھوٹی سی حکومت رہ گئی۔ اس کے کام کرنے والوں کے اندر سے دیانت اور امانت دونوں مٹ گئے اور اس کے بڑے آدمیوں میں سے قربانی اور ایثار کے نشان محو ہو گئے۔ جب کوئی قوم دنیا کی طرف جاتی ہے تو اگر اس کے اندر دین کی بنیاد ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ اس سے دنیا بھی چھین لیتا ہے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ایک قوم سچے دین کی خدمت کے لئے مقرر کی گئی ہو اور وہ اپنے فرائض میں سستی کرے اور دین کی بجائے دنیا کی طرف مائل ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ اس کے پاس دنیا بھی رہنے دے۔ جو اقوام بے دین ہیں اور جن کو روحانیت کے ساتھ کوئی وابستگی نہیں وہ بے شک دنیوی ذرائع سے ترقی کرتی جاتی ہیں لیکن جن قوموں کو خدا تعالیٰ نے دین کی خدمت سپرد کی ہوتی ہے وہ کبھی دُنیوی ذرائع سے ترقی نہیں کرتیں۔ وہ جب بھی دین کو چھوڑ کر دنیا کی طرف مائل ہو جاتی ہیں خدا تعالیٰ ان کی دنیا بھی چھین لیتا ہے۔ مسلمانوں سے یہی ہوا۔ عام طور پر لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یورپ ترقی کر رہا ہے اور کوئی شخص نہیں کہتا کہ چونکہ اس نے مذہب چھوڑ دیا ہے اس لئے اس پر تنزل آنا چاہئے۔ ہندو قوم مال اور صنعت و حرفت میں ترقی کر رہی ہے اور کوئی شخص نہیں کہتا کہ چونکہ اس قوم نے دین چھوڑا ہوا ہے اس لئے اس پر تنزل اور ادبار آنا چاہئے۔ اسی طرح شنٹو ازم کو ماننے والے جاپانی ترقی کر کے کتنا اونچا نکل گئے تھے۔ اب حماقت اور بے وقوفی سے زبر دست قوموں سے ٹکراؤ کر کے انہوں نے اپنی ہلاکت کا سامان کر لیا ور نہ اس طرح جلدی جلدی وہ ترقی کے راستہ پر قدم زن ہو رہے تھے کہ دنیا انہیں دیکھ کر حیران تھی۔ حالانکہ شنٹو ازم کوئی سچا مذہب نہیں۔ مردوں کی روحوں کو پوجنا بھلا کونسی عقلمندی پر دلالت کرتا ہے مگر وہ قوم دنیوی امور میں عقلمند ہونے کے باوجود دین کے معاملہ میں اس قدر جاہل تھی کہ جس طرح یورپ سے لوگ خدا کے ایک بندے اور عورت سے پیدا ہونے والے انسان کو خدا کہتے ہیں اسی طرح جاپانی ایک بندے کو خدا بنا بیٹھے اور مردوں کی ارواح کو پوجتے تھے۔ اگر خدا تعالیٰ کو چھوڑ دینے کے نتیجہ میں دنیا میں بھی تباہی واقع ہو جاتی ہے تو چاہئے تھا کہ جاپانی قوم پر وبال آتا اور وہ ترقی نہ کرتی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ