خطبات محمود (جلد 27) — Page 192
1946ء 192 خطبات محمود اس کے بعد فرماتا ہے کہ ہم سایہ کو کھینچ لیں گے اور تین سو سال بعد اسلام پر رات آنے لگے گی۔ مگر اس کے بعد پھر دن چڑھے گا۔ وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا 4 اور مسلمان سورج کے نئے طلوع کے ذریعہ سے بیدار ہونے لگیں گے۔ اس آیت کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں کہ اس صا زمانہ میں احمدیت بھی رسول کریم صلی الم کا ایک سایہ ہے۔ ہر شخص جو ا اور ہر شخص جو جو احمدیت میں دا میں داخل ہوتا ہے الله س جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لاتا ہے وہ محمد رسول اللہ صلی علی یم کے سایہ کو اور زیادہ ممتد کرتا ہے۔ اسی طرح ہر تائید سماوی اور ہر الہی نصرت جو ہمیں حاصل ہوتی ہے وہ صاف طور پر اس حقیقت کو واضح کر رہی ہے کہ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِیلًا ۔ یہ سب کچھ خدائی نصرت اور تائید سے ہو رہا ہے۔ انسانی سامانوں سے نہیں ہو رہا۔ آخر وہ کونسی چیز ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کی اتباع کی ہے یا کونسا مسئلہ ہے جس کے متعلق رائج الوقت خیالات کی اصلاح کرنے کی آپ نے کوشش نہیں کی۔ بیسیوں مسائل ہیں جن کے متعلق قرآنی تعلیم کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے موجودہ زمانہ کی رو کے بالکل خلاف اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے اور لوگوں کے پیچھے چلنے کی بجائے دنیا کو اپنے پیچھے چلایا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اقتصادیات کی طرف لوگوں کا بہت بڑا رُجحان ہے۔ اور پنڈت جواہر لال نہرو ہمیشہ کہا کرتے ہیں کہ مذاہب کی آپس کی جنگ در حقیقت یو نہی ہے۔ اصل جھگڑا روٹی کا ہے۔ اگر اس جھگڑے کا فیصلہ ہو جائے تو مذاہب کی جنگ بالکل ختم ہو جائے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ و السلام نے انشورنس اور سود کو منع کر کے بظاہر لوگوں کے لئے روٹی کے سامان بالکل بند کر دیئے ہیں۔ اگر دنیا میں روٹی کا ہی جھگڑا ہوتا تو چاہئے تھا کہ اس تعلیم کی وجہ سے لوگ حضرت مرزا صاحب سے دُور بھاگتے اور کہتے کہ یہ شخص ہماری روٹی بند کرتا ہے، ہمیں سود سے منع کرتا ہے، ہمیں انشورنس سے روکتا ہے، ہمیں ہر قسم کی ٹھگیوں اور دھوکا بازیوں سے مجتنب رہنے کی تعلیم دیتا ہے اور یہ چیز ایسی ہے جسے ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ مگر ہوا یہ کہ اس تعلیم کے باوجو د لاکھوں لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی طرف کھنچے چلے آئے۔ دوسرے نمبر پر یہ زمانہ عورتوں کی آزادی کا ہے۔ مسلمانوں کے قدیم سے قدیم