خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 190

1946ء 190 خطبات محمود عورتیں بظاہر تردد کرنے والی اور مُتَشَکک طبیعت کی ہوتی ہیں مگر حضرت خدیجہ نے آپ کی بات کو سنتے ہی کہا کہ پہلا سا یہ تو میں آپ کا بنتی ہوں۔ پس فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظل دیکھتے نہیں کہ ہم کس طرح تیرے سایہ کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ پھر حضرت خدیجہ آپؐ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ وہ عربوں میں سے یہودی اور اسرائیلی علوم کے ماہر تھے۔ جب حضرت خدیجہ نے رسول کریم صلی علی ایم کو ان کے سامنے پیش کیا اور سارا واقعہ سنایا تو انہوں نے کہا بس ان پر وہی فرشتہ اُترا ہے جو موسیٰ پر اُتر ا تھا۔ 3 اس طرح ورقہ نے کہا کہ لو میں بھی اس سایہ میں شامل ہوتا ہوں۔ یہی حقیقت اللہ تعالیٰ اس آیت میں بیان فرماتا ہے کہ اَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الكِل تم دیکھتے نہیں کہ ہم آپ کے سایہ کو کس طرح بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ پہلے ہی دن جب آپؐ دوسرے آدمی کے پاس پہنچے تو آپؐ کا سایہ اور لمبا ہو گیا۔ پھر جب گھر میں آکر اس بات کا ذکر میاں اور بیوی نے کیا تو ایک آزاد کردہ غلام کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ مجھے بھی اپنے سایوں میں شامل کر لیجئے۔ جوانی کے قریب پہنچے ہوئے علی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ میں بھی آپ کا سایہ بنتا ہوں۔ آپؐ کے صد الله بچپن کے دوست ابو بکر نے جب یہ واقعہ سنا تو وہ دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! میں بھی آپ پر ایمان لاتا ہوں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ الم ترَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَنَ الظُّلَّ ۔ دنیا میں نبیوں کی مخالفتیں تو ہوا ہی کرتی ہیں اور آپ کی بھی سخت مخالفت ہوئی لیکن رسول کریم تسلیم کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدائی ایام میں ہی وہ لوگ جو آپ کے ارد گرد رہتے تھے یا جن کی رائے کوئی قیمت رکھتی تھی آپ کے ساتھ شامل ہو گئے اور اس طرح آپ کا سایہ فوراًہی ممتد ہو گیا۔ ایک دن بھی تو رسول کریم صلی الم پر ایسا کم نہیں گزرا کہ آپ کا سایہ لمبانہ ہوا ہو۔ یہ نہیں ہوا کہ آپؐ کے دعویٰ پر ایک دن گزر گیا ہو اور آپؐ کا صد کوئی تابع نہ ہوا ہو۔ دو دن گزر گئے ہوں اور آپ کا کوئی تابع نہ ہوا ہو۔ دس دن گزر گئے ہوں اور آپ کا کوئی تابع نہ ہوا ہو۔ یا مہینہ دو مہینے گزر گئے ہوں اور آپ کا کوئی تابع نہ ہوا ہو۔ بلکہ پہلے ہی دن جب آپ اللہ تعالیٰ کے الہام کا ذکر فرماتے ہیں فوراً آپ کا سایہ لمبا ہو جاتا اور حضرت خدیجہ آپ پر ایمان لے آتی ہیں۔ پھر اسی دن جب آپ چل کر باہر ورقہ بن نوفل کے پاس پہنچتے ہیں تو رض