خطبات محمود (جلد 27) — Page 189
1946ء 189 (13) خطبات محمود رسول کریم صلی اللہ علم کی صداقت کی ایک زبر دست دلیل )فرمودہ 19 اپریل 1946ء ) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ علیہم نے دنیا میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظُّلَّ وَ لَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنَا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِیلًا - 1 تُو نے اپنے رب کے اس اظہار کو نہیں دیکھا کہ كَيْفَ مَدَّ الظل اس نے کس طرح سائے کو لمبا کر دیا ہے ۔ وَ لَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنا ۔ اگر چاہتا تو وہ اس کو ساکن ہے۔ بنا دیتا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِیلًا ۔ پھر ہم نے سورج کو اس پر ایک دلیل بنایا ہے۔ یہ ایک الله زبر دست صداقت رسول کریم صلی الم کی ہے۔ جس وقت سے رسول کریم صلی الی یوم علیروم ظہور فرمایا ہے اس وقت سے برابر آپؐ کا سایہ کسی نہ کسی شکل میں ممتد ہو تا چلا جاتا ہے۔ آپؐ کی زندگی میں ایک ساعت بھی تو ایسی نہیں آئی کہ آپؐ کی تعلیم نے پیچھے قدم ہٹایا ہو۔ پہلے ہی بھی تو اسی نہیں آئی کہ آپ کی عظیم نے پیچھے قدم بنایا ہو پہلے ہی دن جب آپ پر الہام نازل ہوا اور آپ اس بات سے گھبرائے کہ یہ کام میں کیونکر سر انجام دے سکوں گا، دلوں کا فتح کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ تو آپ گھبرائے ہوئے اپنے گھر تشریف لائے اور اپنی بیوی کو یہ خدشہ بتایا کہ اتنی بڑی ذمہ داری خدا نے مجھ پر ڈال دی ہے اب میں کیا بتایا کروں؟ اس پر پہلا ہی جواب جو آپ کی بیوی نے آپ کو دیا وہ یہ تھا کہ كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيْكَ الله ابدا 2 ہر گز نہیں، ہر گز نہیں مجھے خدا کی قسم ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔ گویا جس وقت آپ نے اپنے خدشات کا اظہار فرمایا خدا تعالیٰ نے معاً آپ کے سایہ کو بڑھا دیا اور آپ کی بیوی آپ کے مذہب میں شامل ہو گئی۔