خطبات محمود (جلد 27) — Page 168
*1946 168 خطبات محمود کے بڑے بڑے ماہرین کا ہم نے مقابلہ کرنا ہے تو پھر لازمی طور ہمیں اپنے ظاہری علوم کا معیار بھی بڑھانا پڑے گا۔ہم جس قسم کے علماء تیار کرتے رہے ہیں یا تیار کر سکتے تھے وہ ایسے ہی تھے کہ جہاں علمی لحاظ سے وہ قرآن کریم اور احادیث کو علماء از ہر سے بہتر سمجھتے تھے وہاں اگر عربی زبان میں گفتگو کرنے کا سوال آ جاتا تھا یا بعض خاص قسم کی اصطلاحات کا سوال آ جاتا تھا تو دوسرے لوگ ہمارے علماء سے بہت بڑھے ہوئے تھے۔اور چونکہ عام طور پر لوگ ظاہر کی طرف دیکھتے ہیں مغز کی طرف ان کی نظر نہیں جاتی اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ظاہر ایک بیرونی چیز ہے جس کی طرف ہر شخص کی نگاہ فوراً اٹھنے لگتی ہے اور مغز اندر کی طرف ہوتا ہے جسے ظاہر ہیں نگاہ نہیں دیکھتی۔اس لئے وہ لوگ جو ظاہری علوم کے دلدادہ تھے ہمارے مبلغین سے پوری طرح متاثر نہیں ہوتے تھے۔اب چونکہ ہم نے ان علاقوں میں بھی اشاعت احمدیت کے لئے اپنی کوششوں کو تیز تر کرنا ہے اس لئے ہمیں پہلے سے بہت زیادہ علماء کی ضرورت ہے۔اور ہمیں اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ ہم اپنی جماعت کے ایک طبقہ کو زیادہ اعلیٰ درجہ کے علمی معیار پر پہنچا سکیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ باطنی طور پر ان کو اعلیٰ معیار پر پہنچانا ہمارے قبضہ میں ہے لیکن ظاہری طور پر اعلیٰ معیار پر پہنچانا اس وقت دوسروں کے قبضہ میں ہے۔اور ہم اس وقت تک اس رو کا مقابلہ نہیں کر سکتے جب تک ہماری جماعت میں بھی ایسا طبقہ موجود نہ ہو جو ظاہری علوم کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ کے معیار کو حاصل کئے ہوئے ہو۔پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس معیار پر جلد سے جلد پہنچیں اور ہماری جماعت میں اعلیٰ درجہ کے علوم کے ماہرین کی ایک کافی تعداد پیدا ہو جائے تاکہ ہماری جماعت میں نئے علماء کی ضرورت کا سوال بہت حد تک حل ہو جائے۔مجھے معلوم نہیں کہ اس وقت تک جماعت کے لوگوں نے میری تحریک پر کیا توجہ کی ہے۔اصل طریق یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی تحریک کی جائے تو اس کے نتائج سے امام کو آگاہ رکھا جائے کیونکہ تمام کام امام کی آواز پر ہوا کرتا ہے۔میں نے اخبارات میں مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر اور جامعہ احمدیہ کے پرنسپل کی طرف سے اس قسم کے اعلانات تو دیکھے ہیں کہ دوستوں کو اپنے لڑکے یہاں تعلیم کے لئے بھجوانے چاہئیں مگر مجھے کسی نے بتایا نہیں کہ اس بارہ میں لڑکوں کی طرف سے کوئی درخواستیں آئی ہیں یا نہیں۔اور اگر آئی ہیں تو کتنی ہیں۔اگر مجھے بتایا جاتا تو میں