خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 165

*1946 165 خطبات محمود لیکن اگر ایک انگلی بغل کے پاس ہوتی اور ایک انگلی ہاتھ کے سرے پر تو کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ اس فلسفہ کے ماتحت کہ خدا نے پانچ انگلیوں کو برابر نہیں بنایا بغل والی انگلی ہتھیلی کے ساتھ والی انگلی سے مل کر کوئی کام کر سکتی؟ یقینا وہ کوئی کام نہیں کر سکتی تھی۔کیونکہ پہلی صورت میں انگلیوں میں فرق تو ہے مگر زیادہ فرق نہیں اور دوسری صورت میں دونوں انگلیوں کے درمیان اتنابڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ کسی صورت میں بھی آپس میں مل کر کام نہیں کر سکتیں۔پس دو چیزوں میں فرق تو بے شک ہوتا ہے مگر وہ فرق ایسا ہی ہونا چاہئے کہ بڑی چیز اپنے آپ کو نیچا کر سکے اور نیچے والی چیز اپنے آپ کو اونچا کر سکے۔چنانچہ دیکھ لو خدا تعالیٰ نے پانچوں انگلیاں بے شک برابر نہیں بنائیں مگر لقمہ اٹھاتے اور منہ میں ڈالتے وقت وہ پانچوں انگلیاں برابر ہو جاتی ہیں۔بڑی انگلی نیچے جھک جاتی ہے اور چھوٹی انگلی اونچا ہونے کی کوشش کرتی ہے اور اس طرح ساری انگلیاں باوجود آپس میں فرق رکھنے کے برابر ہو جاتی ہیں۔اسی طرح جماعتوں کے افراد میں اگر باہمی فرق اتنا زیادہ ہو کہ وہ آپس میں مل ہی نہ سکیں۔ایک زمین کی کہتا ہو اور دوسرا آسمان کی۔تو ایسی جماعت کبھی عمدگی سے کام نہیں کر سکتی۔ہاں اگر فرق تو ہو لیکن وقت آنے پر اوپر کے درجہ والا نیچے جھک جائے اور چھوٹے درجے والا اوپر اٹھنے کی کوشش کرے تو وہ جماعت یقیناً کامیاب ہو جاتی ہے۔جیسے ایک بچہ کو جب باپ پیار کرنے لگتا ہے تو ایک طرف بچہ اپنی ایڑیوں کے بل کھڑا ہو جاتا ہے اور دوسری طرف باپ اس کو پیار کرنے کے لئے نیچے کی طرف جھکتا ہے۔لیکن اگر بچے کا قد چیونٹی کے برابر ہو تا تو تم سمجھ سکتے ہو کہ نہ باپ اس قدر نیچے جھک سکتا اور نہ بچہ اس قدر اونچا ہو سکتا کہ وہ اپنے باپ کے پیار کو حاصل کر سکتا۔اتنا بڑا ا فرق جب بھی پیدا ہو جائے قومی ہلاکت اور تباہی کا موجب بن جاتا ہے۔اور جب کسی جماعت کے افراد کے اندر اتنابڑا فرق سخت مُضر ہوتا ہے تو مبلغین کے اندر اگر اسی قسم کا تفاوت پیدا ہو جائے تو وہ کیوں مضر نہیں ہو گا۔بہر حال جب تک ہماری ساری جماعت علمی معیار کے لحاظ سے بلندی تک نہیں پہنچ جاتی اور جب تک ہماری جماعت موجودہ علمی حالت سے کئی گنا زیادہ ترقی حاصل نہیں کر لیتی اس وقت تک ہمیں اور بھی زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑے بڑے علماء ہماری جماعت میں ہر وقت