خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 164

1946ء 164 خطبات محمود غیر ممالک میں جو مقامی مبلغ مقرر کر لئے جاتے ہیں اُن کی تعداد کا سوائے افریقہ کے کوئی صحیح اندازہ نہیں۔ بہر حال یہ 85 کے قریب مبلغ تو باہر کے ہو گئے۔ ستر اسی کے قریب ہندوستان میں بھی ہمارے مبلغ موجود ہیں اور پچاس کے قریب دیہاتی مبلغ تیار ہو رہے ہیں۔ ان سب کو اگر شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد دو سو کے قریب بن جاتی ہے مگر ان دو سو مبلغین میں سے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ مبلغ بہت کم ہیں۔ وہ مولوی فاضل یا گریجوایٹ جن کو ہم نے باقاعدہ تعلیم دلوائی ہے اگر ان سب کا اندازہ کیا جائے تو وہ ساٹھ ستر سے زیادہ نہیں نکلیں گے۔ باقی سب ایسے ہی ہیں جنہیں وقتی ضرورت کے ماتحت تبلیغ کے کام پر لگا لیا گیا ہے۔ جہاں تک تبلیغ کے کام کا سوال ہے وہ اس کام کو بخوبی کر سکتے ہیں مگر جہاں تک سلسلہ کے مسائل کو کما حقہ سمجھنے کا سوال ہے وہ خود بھی ان مسائل کو کما حقہ نہیں سمجھ سکتے۔ کجا یہ کہ دوسروں کو سمجھانے کی قابلیت اپنے اندر رکھتے ہوں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں کوئی بھی جماعت ایسی نہیں ہو سکتی جس کے تمام افراد علمی لحاظ سے ایک ہی سطح پر ہوں۔ ضرور ان میں سے کچھ زیادہ علم رکھنے والے ہوتے رض ہیں اور ۔ اور کچھ کم علم رکھنے والے ہوتے ہیں۔ رسول کریم صلی الم کے صحابہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں علیدوم رض کہ ان میں حضرت ابو بکر بھی تھے ، حضرت علیؓ بھی تھے ، حضرت عمر جیسے انسان بھی تھے مگر رض ساتھ ہی بعض اس قسم کے بھی صحابہ تھے جو مسائل اسلامیہ کو کما حقہ سمجھنے کی استعداد اپنے اندر نہیں رکھتے تھے۔ چند موٹے موٹے مسائل سمجھ لیتے اور اسی پر وہ اکتفا کرتے تھے جیسے حضرت بلال تھے۔ یا فقہی مسائل کو سمجھنے کا مادہ اپنے اندر نہیں رکھتے تھے۔ گو ظاہری علم ان کا زیادہ تھا جیسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تھے۔ بہر حال کسی جماعت میں بھی سارے افراد یکساں طور پر ترقی یافتہ نہیں ہوتے۔ ہمارے ملک میں بھی مثل مشہور ہے کہ ہے اور خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد یعنی خدا تعالیٰ نے انسان کی پانچ انگلیوں کو بھی برابر نہیں بنایا۔ ان میں بھی کوئی چھوٹی ، اور کوئی بڑی۔ مگر جہاں یہ حقیقت ہے کہ کسی جماعت کے تمام افراد علمی لحاظ سے ایک ہی سطح پر نہیں ہوتے وہاں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کچھ نہ کچھ سطح کا برابر ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کی پانچوں انگلیوں کو برابر نہیں بنایا۔