خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 145

*1946 145 خطبات محمود ہے تا تمہیں اپنی اصلاح کی فکر ہو۔کیونکہ میرے ذکر کرنے کی وجہ سے تم شرمندگی محسوس کرو گے اور آئندہ کوشش کرو گے کہ تمہیں دوبارہ شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔اور اگر اس دفعہ میں تمہاری چالا کی کو نظر انداز کر دیتا تو آئندہ تمہیں جرآت پیدا ہوتی اور تم اپنی اصلاح کی طرف متوجہ نہ ہوتے۔یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان کو کسی معاملہ میں شر مندہ ہونا پڑے تو نفس میں مقابلہ کی قوت پید ا ہو جاتی ہے اور وہ آئندہ کے لئے اس فعل سے اجتناب کرتا ہے۔پس میں افسروں کو اور ماتحتوں کو اور مزار عین کو سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سچائی کو اپنا شیوہ بنائیں اور لوگوں کے سامنے اپنا اچھا نمونہ پیش کریں جو احمدیت کی تبلیغ میں محمد ہو۔اور ایسا نمونہ نہ پیش کریں جو احمدیت کی تبلیغ میں روک بنے۔سچائی سے اگر شکست بھی ہو تو وہ ہزار فتح سے بہتر ہے اور وہ فتح جو جھوٹ سے حاصل ہو وہ ہزار شکست کے برابر ہے۔آجکل یہ بات لوگوں کے منہ پر عام ہے کہ اس زمانہ میں جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں۔یہ بات ان کی بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے سچائی کے رستہ کو تلاش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اور جھوٹ کا رستہ چونکہ آسان ہے اس لئے اس کی طرف مائل ہو گئے۔اگر ہر ایک شخص عہد کرے کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا اور جھوٹ سے حرام کمائی نہیں کروں گا اور جھوٹ کے تمام رستے اپنے اوپر بند رکھوں گا تو وہ ضرور سچائی کے رستہ کی طرف قدم اٹھائے گا اور سچائی کے رستہ کی تلاش کرے گا۔اور یہ قدرتی بات ہے کہ جب انسان کسی چیز کی جستجو کرتا ہے تو وہ چیز اسے مل جاتی ہے۔یہ کہنا کہ جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں اس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو جھوٹ بولنے پر مجبور کیا ہے اور سچ کا رستہ انسان کے لئے بند کر دیا ہے۔یہ خیال ان کا کم فہمی کی وجہ سے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ تو رَبُّ الْعَالَمِین اور اَرْحَمُ الرَّاحِمِيْن ہے۔اس نے انسانوں کے لئے سچ کا رستہ کھلا رکھا ہے لیکن جو شخص جھوٹ کے رستے کو پسند کرتا ہے اس پر بیچ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔پس یہ بات بالکل غلط ہے کہ جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں۔جو شخص سچائی سے اپنی روزی کمانے کا اللہ تعالیٰ سے عہد کرے یہ ہو نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ اسے بھوکا رکھے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق قدم اٹھاتا ہے۔مشکلات تو ہر رستہ میں انسان کو پیش آتی رہتی ہیں۔ہمارے سامنے اس کی مثال موجود ہے کہ انسان سچائی