خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 114

1946ء 114 خطبات محمود تو آپ نے اپنی چادر اتار کر اس پر ڈال دی۔ پچھلے زمانے میں یہ دستور تھا کہ بادشاہ جسے معاف کرتے اس پر اپنی چادر ڈال دیتے تھے۔ جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا تھا کہ ہم نے اسے ندسة معاف کر دیا ہے اور اب یہ شخص ہماری پناہ میں ہے۔ اسی دستور کے مطابق رسول کریم صلی اللی ام رض نے اپنی چادر اس پر ڈال دی۔ جب صحابہ نے یہ نظارہ دیکھا تو انہوں نے اپنی تلواریں میانوں میں رکھ لیں اور خاموشی کے ساتھ بیٹھ گئے۔ یہ قصیدہ آج تک قصیدہ بردہ کہلاتا ہے۔ یعنی وہ قصیدہ جس کے پڑھنے پر رسول کریم صلی علی ایم نے اسے چادر عطا فرمائی تھی۔ یہ شخص رسول کریم صلی علی ام رض صد الله سلم کے بعد کچھ عرصہ زندہ رہا۔ حضرت معاویہؓ نے اسے اس چادر کے لئے بیس ہزار دینار پیش کئے لیکن اس نے دینے سے انکار کیا۔ 4 حضرت معاویہؓ رسول کریم صلی علیم کے سالے تھے اور ایک مدت تک رسول کریم صلی الم کے گھر میں بھی رہے۔ اور ان کے لئے موقع تھا کہ وہ جتنے تبرکات چاہتے جمع کر لیتے کیونکہ ان کی بہن ام حبیبہ رسول کریم صلی علیم کے گھر میں تھیں اور وہ اکثر اپنی بہن کے پاس آتے جاتے بلکہ اپنی بہن کے پاس رہتے بھی تھے۔ رض رض رض ام حبیبہ اور حضرت معاویہؓ کی عمر میں کافی فرق تھا۔ اُم حبیبہ حضرت معاویہ سے عمر صا الله سل میں کافی بڑی تھیں۔ ایک دن رسول کریم گلیم گھر میں داخل ہوئے تو حضرت ام حبیبہ حضرت معاویہ کو گود میں لٹا کر پیار کر رہی تھیں۔ رسول کریم صلی علیم سے شرمانے کی وجہ سے رض سه حضرت معاویہ اٹھ ی اٹھ کر بیٹھ گئے۔ رسول کریم صلی العلیم نے ام حبیبہ سے پوچھا۔ کیا یہ تمہیں پیارا رض ہے؟ حضرت ام حبیبہ نے جواب دیا ہاں یا رَسُولَ اللہ ! مجھے پیارا ہے۔ بھائی جو ہوا۔ آپ نے رض فرمایا۔ اگر تمہیں پیارا ہے تو ہمیں بھی پیارا ہے۔ حضرت معاویہؓ کے لئے اتنا موقع تھا تبرکات کے جمع کرنے کا۔ اور ضرور انہوں نے تبرکات جمع کئے ہوں گے مگر پھر بھی حضرت معاویہ نے اس شخص کو میں ہزار دینار پیش کئے کہ یہ چادر تم مجھے دے دو۔ لیکن اس نے جواب دیا کہ میں تبرک کی قیمت نہیں ڈالوں گا۔ میں ہزار دینار قریباً ایک لاکھ روپیہ بنتا ہے اور یہ رقم وہ شخص دے رہا تھا جو رسول کریم صلی الم کے گھر میں رہتا تھا۔ یہ رقم وہ شخص دے رہا تھا جس کے پاس رسول کریم صلی الیم کے بہت ۔ بہت سے تبرکات ہوں گے۔ یہ رقم وہ شخص دے رہا دے رہا تھا جس کو رسول کریم صلی الم کے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ رقم وہ شخص دے رہا تھا جو آپ کا قریبی رشتہ دار تھا۔ رض