خطبات محمود (جلد 27) — Page 113
1946ء 113 خطبات محمود میں چلا جاتا۔ آخر ایک قبیلہ کے لوگوں نے اسے کہا کہ تو کب تک اس طرح بھاگتا پھرے گا۔ مسلمان تو دریا کی طرح بڑھے آ رہے ہیں تو کہاں تک بھاگتا جائے گا؟ اس نے کہا پھر کیا کروں؟ انہوں نے کہا کہ تو مدینے جا اور جا کر معافی مانگ۔ اس نے کہا کہ میں نے مسلمانوں پر بہت ظلم کئے ہیں اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ تیرے لئے کم سزا ہے کہ قبیلہ قبیلہ میں مارے مارے پھرتا ہے ، تو جہاں جاتا ہے مسلمان وہاں پہنچ جاتے ہیں اور تجھے اگلے قبیلے میں بھاگنا پڑتا ہے، اس ذلت سے موت بہتر ہے۔ آخر اس نے رسول کریم صلی اللی علم کی مدح میں ایک قصیدہ کہا اور بھیس بدل کر رسول کریم صلی العلم کی مجلس میں جا پہنچا اور عرض کی کہ میں کچھ شعر سنانا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا سناؤ۔ اس نے شعر سنانے شروع کئے۔ جیسا کہ عرب کے شعراء کا طریق تھا کہ پہلے وہ اپنی معشوقہ کا ذکر کرتے تھے، پھر اس کے بعد اونٹنی کا ذکر کرتے اور پھر اونٹنی کے ذکر کے بعد اپنے مطلب کی طرف آتے۔ اسی طرح اس نے اپنے قصیدہ کو شروع کیا۔ پہلے تو آہستہ آہستہ شعر سنانے شروع کئے تا کہ کوئی شخص اس کی آواز نہ پہچان لے۔ ہوتے ہوتے اس کی بناوٹی آواز جاتی رہی اور اصل آواز ظاہر ہو گئی۔ لوگوں نے اس کی آواز پہچان لی لیکن رسول کریم صلی الیم کے ادب کی وجہ سے خاموش رہے۔ اسی حالت میں اس نے یہ شعر کہا۔ نُبِّئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَوْعَدَنِي وَالْعَفْوُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ مَأْمُولُ الله جس کا مفہوم یہ تھا کہ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تمہارے لئے محمد رسول اللہ (صلی ال) نے قتل کا حکم دے دیا ہے۔ مگر میں نے انہیں جواب دیا کہ مجھے تم یہ تو بتاؤ کہ دنیا میں کوئی شخص محمد رسول اللہ (صلی ال) جیسا معاف کرنے والا ہے۔ جب اس نے یہ شعر پڑھا تو انصاری لوگوں نے اسے پہچان لیا اور اپنی تلواریں میانوں سے نکال لیں لیکن رسول کریم صلی علیم کے ادب کی وجہ سے کچھ کر نہ سکتے تھے اور منتظر تھے کہ آپ اشارہ کریں تو اس کا سر کاٹ دیں۔ مگر رسول کریم صلی الہیم اس کے شعر سنتے رہے۔ اس نے کچھ شعر اسلام کی تعریف میں سنائے اور کچھ شعر قرآن کی تعریف میں ۔ جب اس نے یہ شعر پڑھا کہ : مَهْلًا هَدَاكَ الَّذِي أَعْطَاكَ نَافِلَةَ الْقُرْآنَ فِيهَا مَوَاعِيْظُ وَ تَفْصِيلُ