خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 112

*1946 112 خطبات محمود الله سة توجہ نہ کرتے۔یا ایک زمانہ وہ آیا کہ آپ کو دیکھنے والوں کو دیکھنے کے لئے لوگ ہزاروں میل سے دوڑے جاتے تھے۔ایک زمانہ وہ تھا کہ رسول کریم صلی ا وم خود لوگوں کو باتیں سناتے لیکن لوگ آپ کی باتیں سننے کے لئے تیار نہ ہوتے۔یا پھر وہ زمانہ آیا کہ بڑے بڑے بادشاہ آپ سے باتیں سننے والوں یا سننے والوں سے باتیں سننے کے لئے جاتے تھے۔پس لوگوں کو یہ عادت ہے کہ ابتدا میں وہ قیمتی چیز کی قدر نہیں کرتے۔لیکن جب ترقی کا زمانہ آتا ہے تو پھر بڑی بڑی قیمتیں دے کر خریدتے ہیں۔کچھ عرصہ ہوا ہے کہ پٹھانکوٹ کے ایک دکاندار کے پاس قادیان کے کسی آدمی نے کئی من الفضل رڈی میں بیچ دیا۔جب وہ شخص جس نے یہ اخبار فروخت کیا تھا پکڑا گیا تو اُس نے بتایا کہ یہ اخبار کئی من اس کے پاس پڑا ہے جو اُس نے رڈی میں لوگوں سے خریدا ہے۔اگر اس بیچنے والے یا اس کے پاس اخبار بیچنے والوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں پر ایمان ہوتا اور اگر انہیں یقین ہوتا کہ آئندہ زمانہ میں احمدیت کو بڑی بڑی ترقیات ملنے والی ہیں۔تو وہ اسے رڈی کے بھاؤ نہ بیچتے بلکہ سنبھال کر رکھتے کہ آئندہ اگر ان کی اولاد میں دین کا جوش نہ بھی ہوا اور اس سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو بھی اس کی قیمت ہزاروں ہزار روپیہ پڑنے والی ہے۔ہم اس وقت اسے فروخت کریں گے۔اس کے پڑا رہنے سے ہمارا کیا حرج ہے۔رسول کریم ملی ایلی ظلم کا وصال ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ آپ کے تبرکات لوگوں نے ہزاروں ہزار روپے کو مانگنے شروع کر دیئے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی یکم کے پاس ایک شخص آیا جس کا نام کعب بن زہیر تھا۔یہ شخص مسلمانوں کا سخت مخالف اور جانی دشمن تھا۔اسلام کے خلاف بہت گندے شعر کہتا اور مسلمانوں پر اپنے اشعار میں طرح طرح کے بے ہودہ الزامات لگاتا اور ان کی تشہیر کرتا۔جب مکہ فتح ہوا تو ایسے خاص الخاص پانچ آدمیوں کے متعلق قتل کا اعلان کیا گیا کہ وہ جہاں پائے جائیں انہیں قتل کر دیا جائے۔ان میں سے ایک یہ شخص بھی تھا۔مکہ میں تو وہ رہ نہیں سکتا تھا کیونکہ مکہ فتح ہو چکا تھا اور اس میں اسلام کی حکومت قائم ہو چکی تھی اور ملک کے دوسرے علاقوں کو بھی مسلمان فتح کرتے جارہے تھے۔وہ ایک قبیلہ سے دوسرے قبیلہ میں مارا مارا پھرتا۔جب مسلمان اس کے نزدیک پہنچتے تو وہ اگلے قبیلہ