خطبات محمود (جلد 27) — Page 665
*1946 665 خطبات محمود تو وہ اُس کو اپنی ٹانگوں پر سہار سکے۔یہ مثال در اصل مومن کی ہے ورنہ جانور سے کون باتیں کر سکتا ہے؟ اس قسم کا کام صرف مومن ہی کر سکتا ہے اور باوجو د بظاہر انتہائی کمزور ہونے کے وہ ہر قسم کی قربانی پیش کرتا ہے۔اور جس طرح مثال میں ایک چھوٹا سا جانور کہتا ہے کہ اگر آسمان گر پڑا تو میں ساری دنیا کو بچالوں گا اور میں اپنی جان کی قربانی پیش کر دوں گا۔اسی طرح ایک مومن بھی کہتا ہے کہ میں ساری دنیا کو بچانے کے لئے اپنی جان کی قربانی پیش کر دوں گا۔پس تمہیں چاہئے کہ تم بھی اسی قسم کے مومن بنو کہ ساری دنیا کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی جان کی قربانی پیش کرو۔جب مومن ہر دن اور ہر رات خدا کے سامنے اپنی جان کی قربانی پیش کرتا ہے تب اُس کے راستہ سے ہر قسم کی مشکلات بہتی چلی جاتی ہیں اور خدا کا فضل نازل ہو نا شروع ہو جاتا ہے۔اور خداہر میدان میں اپنے بندے کا ساتھ دیتا ہے اور شیطان کے لشکروں کو شکست ہوتی ہے اور خدا کی طرف سے جو عذاب دنیا پر نازل ہونے والے ہوتے ہیں اور جو تباہی کے سامان دنیا پر وارد ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب واپس چلے جاتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اب میری دنیا مومنوں سے بھر رہی ہے اس لئے اب میر ا عذاب اس پر حرام ہو جائے گا۔“ 1: پیدائش باب 18 آیت 20 تا 33 (مفہوم) (الفضل 23 دسمبر 1946ء)