خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 647 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 647

خطبات محمود 647 *1946 لمبا ہو گا تو اس کو کسی دوسری جگہ ٹھہرا دیں گے۔بہر حال دیواروں کی اونچائی چھ فٹ ہی کافی ہوگی کیونکہ وقت کی بچت کی بھی ضرورت ہے۔مگر یہ کام جس قدر جلد ہو سکے سر انجام دیا جائے تا کہ جلسہ پر آنے والے دوستوں کو تکلیف نہ ہو۔زمینوں میں پانی دے کر اور کیتوں سے کھود کر مکان بنانے شروع کر دو۔اگر یہ مکان تیار ہو گئے تو علاوہ اس کے کہ ان میں مہمان ٹھہر سکیں گے یا مصیبت زدہ لوگ گزارہ کر سکیں گے۔ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ جو زمینیں خالی پڑی ہیں اور جو خالی رہنے کی وجہ سے ویسے بھی شہر کے لئے خطرناک ہیں، اور اگر چور آجائیں تو وہ آسانی سے ان کھلے میدانوں میں بھاگ سکتے ہیں۔وہ خالی جگہیں پر ہو جائیں گی اور شہر کی حفاظت بھی ہو گی اور مکانوں کی تنگی کی وجہ سے خصوصاً جلسہ کے ایام میں جو دقت پیش آتی ہے وہ بھی کم ہو جائے گی۔(انْشَاءَ اللهُ تَعَالَى “ (الفضل 14 دسمبر 1946ء) 1: بفر: ٹکر۔روک " ( اردو لغت تاریخی اصول پر۔جلد دوم صفحہ 1181۔مطبوعہ کراچی 1979ء) 2 ٹھوس: وہ لمبی گھاس جس کا چھپر بناتے ہیں۔پرانی گھاس 3: کیوں: کسیوں 4 مقاطعہ : ٹھیکہ