خطبات محمود (جلد 27) — Page 634
*1946 634 خطبات محمود چھپے گا۔الفضل والوں کو چاہئے کہ اس خطبہ کا مختصر نوٹ کل سے الفضل میں چھاپنا شروع کر دیں تاکہ اگر یہاں قادیان میں کچھ ڈاکٹر ہوں۔جو ایک مہینہ یا اس کے قریب وقت دے سکتے ہوں تو وہ جلد از جلد اپنے نام لکھوا دیں اور مصیبت زدگان کی امداد کر کے خدا تعالیٰ سے ثواب حاصل کریں بیر و نجات کے ڈاکٹر جن میں سے بعض رخصت پر ہیں یار خصت پر تو نہیں مگر اس کام کے لئے رخصت حاصل کر سکتے ہیں اُن کے لئے بھی ثواب کا موقع ہے۔انہیں چاہئے کہ ہر ممکن کوشش کر کے وہ اس کام میں حصہ لیں کیونکہ انسان کی زندگی اتنی محدود ہے اور خدا کے ساتھ معاملہ اتنا لمبا ہے کہ ان دونوں کو آپس میں کچھ نسبت ہی نہیں۔اس لئے زندگی کو غنیمت سمجھتے ہوئے اور خدا کے ساتھ ابدی معاملہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس قسم کے ثواب کے موقع کو ضائع نہیں جانے دینا چاہئے۔اور جہاں تک ہو سکے اپنی زندگی میں سے لمبا وقت خدمت دین اور خدمت خلق میں گزارنا چاہئے تاکہ یہ کام دینی اور دنیوی ترقی میں مید ہوں۔میں نے پہلے بھی جماعت کو کئی بار اس طرف توجہ دلائی ہے کہ کیا معلوم ہے کہ کل اس کی اپنی حالت کیا ہو۔اس لئے مصیبت کے وقت سب مصیبت زدوں کا اکٹھا ہو جانا ضروری ہوتا ہے ورنہ ایک ایک کر کے مارے جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور دشمن ہمیشہ تفرقہ سے ہی فائدہ اٹھایا کرتا ہے اور اس کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ مد مقابل قوم اختلافات اور تفرقہ میں مبتلا ر ہے اور وہ فرداً فرداً سب سے دوچار ہو سکے اور آسانی کے ساتھ انہیں تباہ کر سکے۔اس قسم کے تفرقہ سے فائدہ اٹھانے کی ایک مثال مشہور ہے۔کہتے ہیں ایک زمیندار کے باغ میں پھل پکے ہوئے تھے۔ایک دن ایک سید کے لڑکے ، ایک مولوی کے لڑکے اور ایک عامی آدمی نے مشورہ کیا کہ زمیندار کے باغ میں چل کر پھل کھانے چاہئیں۔وہ تینوں نہایت مضبوط اور ہتے کہتے تھے۔سیدھے باغ میں پہنچے اور پھل کھانے شروع کر دیئے۔کچھ پھل تو انہوں نے کھائے، کچھ توڑے اور کچھ پھینکے۔اس طرح باغ کو اُجاڑ دیا۔جب باغ والے زمیندار کو قادیان سے اسی دن میجر بدر الدین اور میجر محمد جی صاحبان نے اپنے نام دیئے اور وہ روانہ ہو چکے ہیں۔مگر افسوس کہ امور عامہ نے حسب معمول سستی کر کے انہیں کئی دن بعد بھجوایا۔