خطبات محمود (جلد 27) — Page 619
*1946 619 خطبات محمود جانے کا خطرہ ہے۔تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بتائے ہوئے طریقوں کو استعمال کرو اور اس کامیاب ہتھیار کولے کرنئے سرے سے شہروں اور گاؤں پر حملہ کرو۔تم جہاں جاؤ گے فتح اور کامیابی کے ساتھ واپس لوٹو گے۔اپنے دشمن سے کہو کہ جہاں سے لڑائی شروع ہوئی تھی ہم اُسی مورچے پر لڑیں گے۔اس پر دشمن اپنی شکست تسلیم کر لینے پر مجبور ہو جائے گا اور اس کے دیکھنے والوں، اس کے ماننے والوں اور اس کے مقتدیوں پر اس بات کا گہرا اثر پڑے گا اور وہ سمجھ جائیں گے اور یقین کر لیں گے کہ ہمارا امام اور مولوی جھوٹا ہے اور احمدی سچا ہے۔مگر ہتھیار بھی تبھی کارآمد ہو سکتا ہے جب اُس کے استعمال کرنے والا بھی دلیر اور ماہر ہو۔جب تک تمہارے اندر تبلیغ کے لئے جرات نہیں پیدا ہوتی اس وقت تک اچھے سے اچھا ہتھیار بھی بیکار ہے۔جیسے کہتے ہیں کسی شہزادہ نے دیکھا کہ ایک شمشیر زن سپاہی نے اپنا کرتب دکھاتے ہوئے تلوار کے ایک ہی وار سے گھوڑے کے چاروں پاؤں کاٹ ڈالے۔شہزادہ نے نادانی سے یہ سمجھ لیا کہ یہ خوبی تلوار ہی میں ہے۔وہ سپاہی کے پاس گیا اور اس سے کہا یہ تلوار مجھے دے دو مگر سپاہی نے تلوار دینے سے انکار کر دیا۔اس پر وہ شہزادہ روتا ہوا اپنے باپ کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں نے فلاں سپاہی سے تلوار مانگی تھی مگر اس نے دینے سے انکار کر دیا ہے۔بادشاہ نے فوراً اس سپاہی کو بلوایا اور کہا تو اتنا نمک حرام ہے کہ ہماری تنخواہ سے پلا ہے اور شہزادے نے تم سے تلوار مانگی اور تم نے دینے سے انکار کر دیا۔حالانکہ سپاہی مفت تنخواہ نہیں پاتاوہ تو جان پیش کر کے تنخواہ پاتا ہے مگر بیچارے کی روزی چونکہ اس ملازمت سے وابستہ تھی اس لئے انکار نہ کر سکا اور تلوار شہزادے کے حوالے کر دی۔شہزادہ نے جھٹ ایک گھوڑا منگایا اور جس طرح اس نے سپاہی کو تلوار چلاتے دیکھا تھا اسی طرح گھما کر تلوار ماری مگر گھوڑے کے چاروں پاؤں کٹ جانے تو الگ رہے اُس کے پاؤں پر تلوار کا کہیں نشان بھی نہ پڑا۔وہ پھر روتا ہوا باپ کے پاس آیا اور کہا سپاہی نے دھوکا کیا ہے اور اس نے وہ تلوار نہیں دی جو اس نے خود استعمال کی تھی بلکہ کوئی دوسری تلوار دے دی ہے۔بادشاہ نے سپاہی کو پھر ڈانٹا اور کہا تم نے تلوار بدل کر کیوں دی ہے ؟ سپاہی نے کہا۔بادشاہ سلامت! میں نے تو وہی تلوار دی ہے۔اگر آپ کو میری بات پر یقین نہ آئے تو ایک گھوڑا منگوائیں اور تجربہ کر لیں۔بادشاہ