خطبات محمود (جلد 27) — Page 611
*1946 611 خطبات محمود الله سة رستہ میں اُسے حالات کچھ اس قسم کے پیش آگئے کہ وہ بجائے جر منی جانے کے انگلستان چلا گیا۔اس کے بعد خبریں آتی رہیں کہ اب جرمن سکہ کی قیمت اور گر گئی ہے ، اب اور گر گئی ہے یہاں تک کہ آخر میں اس حد تک گر گئی کہ جب پھر بنک کو لکھا کہ میرے روپیہ کا اب کیا حال ہے؟ اُس میں سے کچھ مجھے مل بھی سکے گا یا نہیں ؟ تو اس کا جواب آیا کہ اب تو ایک پونڈ کی قیمت کئی کروڑ روپیہ تک پہنچ گئی ہے۔اگر آپ اپناروپیہ واپس منگوانا چاہیں تو وہ اب اتنا بھی نہیں جو ڈاک کے ایک ٹکٹ کی قیمت کے برابر ہو سکے۔ہمارے اس جواب پر جو ٹکٹ لگتا ہے وہ اس روپیہ سے زیادہ قیمتی ہے جو آپ کا ہمارے پاس جمع ہے۔اس پر میں نے لکھ دیا کہ بہتر ہے کہ اب میر احساب ختم سمجھا جائے۔اور اس روپیہ پر اِنَّا لِلہ پڑھ دیا۔اس طرح وہ دو ہزار روپیہ تو ضائع ہو گیا مگر اس سے ایک سبق مجھے حاصل ہو گیا اور رسول کریم صلی ایم کی حدیث مجھ پر حل ہو گئی۔بات یہ ہے کہ اصلی روپیہ کی قیمت نہیں گر سکتی۔وہ سکہ جس کی قیمت گر جاتی ہے وہ کاغذی روپیہ اور نوٹ ہوتا ہے۔سونے اور چاندی کے سکے کی قیمت نہیں گرتی۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے آجکل کے بعض ساہوکار کرتے ہیں کہ اگر کسی زمیندار کے پاس ان کا روپیہ پھنس جائے تو وہ دوسرے ساہوکار سے کہتے ہیں میرا ہزار روپیہ فلاں زمیندار کے پاس پھنسا ہوا ہے اُس کا پرونوٹ میں تمہیں پانچ سو روپے میں دیتا ہوں۔دوسر اساہو کار بھی لالچ میں آجاتا ہے اور وہ پر ونوٹ پانچ سوروپے میں لے لیتا ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ اگر قسمت سے ملے گا تو پانچ سو کی بجائے ہزار ملے گا اور پانچ سو مفت میں نفع ہو گا۔اسی طرح جبر من نوٹوں کی ساکھ کھوئی گئی تھی اور قیمت گر گئی تھی۔اُن دنوں دس کروڑ روپیہ تو بُوٹ کی قیمت تھی۔گائے کا سر تو خدا جانے کتنے کو پکا ہو گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی للی یکم نے گائے کے سر کی قیمت لاکھوں اور کروڑوں روپے بتائی ہو گی۔مگر حدیث بیان کرنے والوں میں سے راوی نے سمجھا کہ میرے اس بیان کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا اس لئے لاکھوں اور کروڑوں کو گھٹا کر ہزار روپیہ کہہ دیا۔الشرسة جیسے کہتے ہیں کسی مسجد میں کوئی نابینا مولوی تھا اُس سے گاؤں کے لوگ تاریخیں پوچھا کرتے تھے۔وہ چاند کی تاریخوں کا کچھ حساب رکھتا تھا اور لوگ بیاہ شادی کے موقع پر اس