خطبات محمود (جلد 27) — Page 46
*1946 46 خطبات محمود حاصل نہیں کر سکتا۔دوسرے مسلمانوں کو دیکھ لو۔ان کو خدا تعالیٰ کے غضب اور دوزخ اور جہنم سے ڈرایا جائے تو کس قدر ان میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور اچھے کام کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں لیکن قومی مفاد کا نام لے کر ہزار شور مچاؤ ان پر کوئی اثر نہیں ہو تا۔ان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ قوم تباہ ہو یا باقی رہے، قوم غلام بنے یا آزا در ہے ، حکومت ہندوؤں کے ہاتھ میں جائے یا عیسائیوں کے ہاتھ میں، ملک کو نقصان ہو تو بے شک ہو وہ ٹس سے مس نہیں ہوں گے۔لیکن جب ان کو کہا جائے کہ خدا تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں جہنم میں ڈالے گا تو فوراً چوکس ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔حالانکہ دنیا میں ہزاروں کام ایسے ہیں جو دوزخ کے ڈر سے ہی نہیں کئے جاتے بلکہ کئی اور باتیں ان کاموں کی محرک ہوتی ہیں۔کیا تمہیں روزانہ یہ نظارہ نظر نہیں آتا کہ تم دن میں بیسیوں کام کرتے ہو، کوئی کام خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے کرتے ہو، کوئی کام ماں باپ کو خوش کرنے کے لئے کرتے ہو، کوئی کام بیوی کو خوش کرنے کے لئے کرتے ہو اور کوئی کام رشتہ داروں کو خوش کرنے کے لئے کرتے ہو۔اسی طرح ہر شخص اپنے تعلق والوں کو خوش کرنے کے لئے مختلف قسم کے کام کرتا ہے۔رسول کریم صلی عالی فرماتے ہیں جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ أَحْسَنَ الیھا۔3 انسان کے قلب میں اپنے محسن کے لئے محبت ڈال دی گئی ہے۔کوئی شخص خد اتعالیٰ کو اپنا محسن سمجھ کر اس سے محبت کرتا ہے، کوئی رسول کو اپنا محسن سمجھ کر اس سے محبت کرتا ہے۔وہ کہتا ہے خدا تعالیٰ نے مجھ پر احسان کیا ہے میں کیوں نہ اس سے محبت کروں۔خدا تعالیٰ کے رسول نے مجھ پر احسان کیا ہے میں کیوں نہ اس سے محبت کروں۔میرے ماں باپ نے مجھ پر احسان کیا ہے میں کیوں نہ اس کی مدد کروں۔میری ماں نے مجھ پر احسان کیا ہے میں کیوں نہ اس کی مدد کروں۔میری بہن نے مجھ پر احسان کیا ہے میں کیوں نہ اس کی مدد کروں۔میرے دوستوں نے مجھ پر احسانات کئے ہیں میں کیوں نہ ان کی مدد کروں۔غرض مختلف قسم کے احسانات کی وجہ سے وہ ان کی مدد کرتا ہے۔وہ یہ خدمتیں اور مددیں دوزخ سے بچنے کے لئے نہیں کرتا۔تم دن اور رات میں جتنے کام کرتے ہو اگر ان کو گننا شروع کرو تو دوزخ کے خوف کی وجہ سے تم نے زیادہ سے زیادہ آٹھ دس کام ہی کئے ہوں گے اور دوسرے تعلقات کی وجہ سے