خطبات محمود (جلد 27) — Page 534
*1946 534 خطبات محمود تھا ہو گیا اور گاندھی جی کا یہ فقرہ درست ثابت ہوا کہ میں تو یہ کام نہیں کر سکتا آپ ہی کر سکتے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ جس نقطہ پر لڑائی تھی گاندھی جی نے اسے تسلیم کر لیا تھا اور بالکل ممکن تھا کہ گاندھی جی کی بات مانی جاتی تو آپس میں صلح ہو جاتی۔چنانچہ جب گاندھی جی سے نواب صاحب بھوپال نے ملاقات کی اور یہ فارمولا پیش کیا کہ لیگ کو مسلمانوں کا نمائندہ سمجھا جائے گاتو گاندھی جی نے اس کو تسلیم کر لیا اور اس پر دستخط بھی کر دیئے۔لیکن جب دستخط ہو چکے تو پنڈت نہرو صاحب نے کہہ دیا کہ ہم گاندھی جی کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں۔اس طرح وہ بات جو گاندھی جی نے کہی تھی پوری ہو گئی کہ میں تو صرف گاندھی ہوں میری بات کون مانتا ہے۔چنانچہ پنڈٹ نہر و صاحب نے یہی کہا کہ اس معاملہ میں گاندھی جی سے ہمارا کیا تعلق یہ گاندھی جی کا اپنا فیصلہ ہے ہمارا فیصلہ نہیں۔میرے نزدیک گاندھی جی نے محض بات کو ٹلانے کی کوشش کی تھی اور ان کا مطلب یہ تھا کہ میں اس تحریک میں حصہ لینا ضروری نہیں سمجھتا۔حالانکہ میں وہاں محض ہندوؤں اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے گیا تھا۔ورنہ وزارتوں میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔کانسٹی ٹیوٹ اسمبلی میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔اگر ہم دو تین ضلعوں میں اکٹھے ہوں تو یقیناً ہم اپنے نمائندے زور سے بھیج سکتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم سارے ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں اور اس وجہ سے دسویں حصہ کے برابر بھی اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے۔پس میں وہاں اپنے لئے نہیں گیا تھا بلکہ اس لئے گیا تھا کہ وہ ہزاروں ہزار ہندو جو مختلف علاقوں میں مارا جارہا ہے اُن کی جان بچ جائے۔وہ ہزاروں ہزار مسلمان جو مختلف علاقوں میں مارا جا رہا ہے اُن کی جان بچ جائے۔نہ وہ میرے رشتہ دار ہیں، نہ واقف ہیں، نہ دوست ہیں۔کوئی بھی تو ان کا میرے ساتھ تعلق نہیں۔سوائے اس تعلق کے کہ میرے پیدا کرنے والے خدا نے ان کو بھی پیدا کیا ہے اور میرا فرض ہے کہ میں ان کی جانوں کی حفاظت کروں۔صرف اس دکھ اور درد کی وجہ سے میں وہاں گیا اور صرف اس دکھ اور درد کی وجہ سے میں نے ان کوششوں میں حصہ لیا۔مگر مجھے افسوس ہے کہ گاندھی جی نے میرے اخلاص کی قدر نہ کی اور اُنہوں نے کہہ دیا کہ میری بات کون مانتا ہے۔میں تو صرف گاندھی ہوں۔انہوں نے یہ فقرہ محض ٹالنے کے لئے کہا تھا مگر خدا تعالیٰ نے واقع میں ایسا کر دکھایا اور پنڈت نہرو صاحب نے