خطبات محمود (جلد 27) — Page 488
*1946 488 خطبات محمود جھوٹ اور سچ میں فرق کر کے دکھاتا ہے۔اور سچ اور جھوٹ میں ایسا امتیاز کر دیتا ہے کہ انسان پر اس کے مناسب حال طریق عمل ظاہر ہو جاتے ہیں۔نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ مصلح ہونے کا دعویٰ تو دنیا میں بہت لوگ کرتے ہیں مگر جو باتیں وہ کہتے ہیں اُن پر عمل نہیں کرتے۔کہلاتے تو وہ مصلح ہیں لیکن اُن کا عمل اپنی تعلیم کے بالکل خلاف ہوتا ہے۔یہ لوگ دوسرے لوگوں کے لئے گمراہی اور ٹھو کر کا موجب بنتے ہیں۔لوگ جب ان کی تعلیم کو دیکھتے ہیں تو اسے قابل تعریف کہتے ہیں لیکن جب ان کے اعمال کو دیکھتے ہیں تو ان سے نفرت آتی ہے۔لوگ ان کی منافقت کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں بھی اسی قسم کی منافقت اختیار کرنی چاہئے۔دنیا کے سامنے اچھی اچھی باتیں پیش کرنی چاہئیں۔عمل بے شک اس کے خلاف ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَبرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ کہ بہت برکتوں والا وہ خدا ہے جس نے ایسا کلام نازل کیا جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے۔اور پھر وہ اس لئے بھی برکتوں والا ہے کہ اس نے اپنا کلام ایک عبد پر اُتارا ہے یعنی اُس ہستی پر جو اپنے آپ کو کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے تابع کر دیتی ہے اور رات دن اُس کے احکام کے پورا کرنے میں لگی رہتی ہے۔ایک منافق آدمی بھی اچھی تعلیم پر عمل کرنے کے لئے کہہ سکتا ہے لیکن وہ اس تعلیم پر عمل نہیں کرتا۔ایک نبی کے تعلیم پیش کرنے اور دوسرے آدمیوں کے تعلیم پیش کرنے میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔نبی جو تعلیم لا تا ہے اُس کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔نبی کے آنے سے پہلے بہت حد تک صداقتیں تو دنیا میں موجود ہوتی ہیں لیکن دنیا کے لوگ اپنی کمی ایمان کی وجہ سے ان صداقتوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔نبی آکر کہتا ہے کہ سچ بولو اور دنیا کے لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ سچ بولنا چاہئے۔کبھی کوئی زمانہ ایسا نہیں آیا کہ دنیا کے لوگوں نے یہ کہا ہو کہ جھوٹ بولنا چاہئے یا جھوٹ بہت اچھی چیز ہے۔نبی بھی آکر یہی کہتا ہے کہ جھوٹ نہ بولو اور دنیا بھی یہی کہتی ہے کہ جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔نبی بھی یہی کہتا ہے کہ چوری نہ کرو ظلم نہ کرو۔اسی طرح دنیا کے لوگوں پر بھی کوئی ایسا وقت نہیں آیا جب انہوں نے یہ کہا ہو کہ چوری بہت اچھی چیز ہے اور ظلم کرنا پسندیدہ بات ہے۔ہٹلر اور مسولینی جن کو دنیا بہت بڑے ظالم سمجھتی ہے وہ بھی تو یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم ظلم کرتے ہیں بلکہ اُن کا بھی یہ دعویٰ تھا کہ ہم دنیا