خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 458

*1946 458 خطبات محمود لیکن جو الہی علماء ہوتے ہیں وہ دنیوی علوم کو دینی علوم کے تابع کر دیتے ہیں اور ان کی زیادہ تر توجہ دینی علوم کی طرف ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب سے کام شروع کیا تو آپ کی تمام تر توجہ دین کی طرف تھی۔آپ نے بہت سی دینی کتب لکھیں۔پھر ان کی اشاعت کی۔اور جہاں تک قرآن کریم کے سمجھنے کا سوال ہے اور قرآن کریم کے حقائق و معارف کھلنے کا سوال ہے یہ چیزیں باطنی علوم اور تفقہ فی الدین سے تعلق رکھتی ہیں۔لیکن ان چیزوں کے پیدا کرنے کے لئے آپ نے مدر سے بھی بنائے۔پھر آپ نے ایک ہسپتال بھی جاری کیا۔لیکن آپ میں اور دوسرے دنیا دار لوگوں میں فرق یہ ہے کہ دنیا دار لوگوں کے نزدیک انگریزی تعلیم مقدم تھی۔لیکن آپ کے نزدیک یہ چیز ثانوی حیثیت رکھتی تھی۔اصل چیز دین تھی جس کے تابع آپ نے تمام علوم کو کر دیا۔اسی اختلاف کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیغامیوں کے دلوں میں یہ خیالات پیدا ہوئے کہ عوام الناس کے خیال کے مطابق مدارس و غیرہ قائم کرنا اور دنیوی تعلیم کا انتظام کرنا ہی اصل دین ہے۔چنانچہ ان کا یہ خیال یہاں تک تقویت پکڑ گیا کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو مشورہ دیا کہ لنگر خانہ بند کر دیا جائے اور یہی روپیہ جو لنگر خانہ کا خرچ ہے اس سے کسی جگہ مدرسہ جاری کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا کہ اچھے بھلے بنے بنائے احمدی باہر سے آتے ہیں اور آکر میری باتیں سنتے ہیں اور اپنے اندر تقویٰ پیدا کرتے ہیں۔میں ان بنے بنائے احمدیوں کو کچھ خیالی صورتوں کے لئے کس طرح قربان کر دوں جن کا پیدا ہونا بھی شکی ہے۔پتہ نہیں کہ وہ پڑھنے کے بعد احمدیت کے لئے کیسے ثابت ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بے شک ایک دینیات کے مدرسے کی اور ایک انگریزی کے مدرسے کی بنیاد قائم فرمائی اور آپ کے زمانہ میں ایک ڈسپنسری بھی بن چکی تھی۔لیکن یہ چیزیں آپ کا مقصود نہ تھیں بلکہ آپ کا مقصود دینی تعلیم پر زور دینا اور اللہ تعالیٰ کی معرفت اور عرفان تک لوگوں کو پہنچانا تھا۔کیونکہ بغیر سچے مومنوں کے مذہب کو کچھ بھی تقویت حاصل نہیں ہوتی۔خواہ ساری دنیا ہی اس مذہب کو ماننے کیوں نہ لگ جائے۔لیکن اگر بہت قلیل تعداد میں بھی سچے مومن ہوں تو وہ دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر مجھے