خطبات محمود (جلد 27) — Page 453
*1946 453 خطبات محمود گے میں جاؤں گا۔اور اگر اپنے خرچ پر جانے کے لئے کہا جائے گا تو اپنا خرچ کر کے جاؤں گا۔یہ سب باتیں معاہدہ کرنے والا اچھی طرح پڑھتا اور سنتا ہے اور ان پر دستخط کرتا ہے کہ یہ ساری شرائط مجھے منظور ہیں۔لیکن جب اسے کام پر لگایا جاتا ہے تو کچھ دنوں کے بعد اس کا خط آجاتا ہے کہ آپ نے مجھے فلاں جگہ پر بھیجا تھا یہاں مجھے روٹی پانی کی بہت تکلیف ہے میں گھر جارہا ہوں۔امید ہے کہ آپ معاف فرمائیں گے۔آپ جیسے رحیم و کریم انسان سے یہی امید ہے کہ آپ ضرور معاف فرمائیں گے۔حیرت آتی ہے کہ یہ لوگ کس طرح خیال کرتے ہیں کہ باوجود ان حالات کے کام صحیح طور پر ہو تا چلا جائے گا۔جب اینٹیں ہی نہیں ہوں گی تو معمار عمارت کیسے بنائے گا۔جب کپڑا ہی نہیں ہو گا تو درزی سئے گا کیا؟ جب آٹا ہی نہیں ہو گا تو روٹی کیسے پکے گی۔اگر آٹے کے بغیر روٹی نہیں پک سکتی، اگر کپڑے کے بغیر درزی کوئی لباس تیار نہیں کر سکتا، اگر اینٹوں کے بغیر معمار عمارت نہیں بنا سکتا تو خلفاء اور ائمہ آدمیوں کے بغیر کس طرح کام چلا سکتے ہیں۔جب تم میں سے ایک حصہ انسان کہلانے کا ہی مستحق نہیں تو یہ سمجھنا کہ ایسے لوگوں کی فرضی قربانیوں سے کوئی تغیر ہو سکتا ہے محض اپنے نفس کو دھوکا دینا ہے۔جو شخص وقف کرتا ہے اس کو چاہئے کہ سمجھ سوچ کر وقف کرے۔اس کو کوئی شخص زندگی وقف کرنے کے لئے مجبور تو نہیں کرتا لیکن جب وہ زندگی وقف کر دیتا ہے تو پھر اس کا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔اور پھر اس سے زیادہ رونے کا مقام تو یہ ہے کہ جب ایسے لوگ اپنی جگہ سے بھاگ جاتے ہیں تو جماعتوں کی جماعتیں ان کی سفارش کرناشروع کر دیتی ہیں کہ آپ تو بڑے رحیم و کریم ہیں۔نادان تھا غلطی ہو گئی آپ اسے معاف کر دیں۔جو لوگ ان کی سفارش کرتے ہیں میں ان کو عقلمند نہیں سمجھتا۔میرے نزدیک یہ لوگ نادانی کی وجہ سے سفارش کرتے ہیں ورنہ اگر ان کی سفارش کی تشریح کی جائے تو اس کے معنے یہی بنتے ہیں کہ وہ دوسرے لفظوں میں اقرار کرتے ہیں کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی عزت نہیں کرتے اور ان کی ہمارے دل میں کوئی وقعت نہیں۔جو شخص سفارش کرتا ہے گویا وہ اپنے منہ سے اقرار کرتا ہے کہ میں اس بھاگنے والے سے بڑھ کر بے ایمان ہوں۔بھاگنے والا تو مجرم ہے، اُس نے تو اپنے فعل سے اپنے اوپر بے ایمانی کی مہر ثبت کی اور یہ سفارش کرنے