خطبات محمود (جلد 27) — Page 452
*1946 452 خطبات محمود تکلیف برداشت کر لی اور ایک بہت بڑی مشک لے کر پندرہ منٹ یا آدھ گھنٹہ میں اُن گھڑوں کو بھر دیا اور اُسے اُس کا انعام آدھ گھنٹہ کے بعد مل گیا۔بالکل اسی طرح ہمارے لئے یہ ممکن ہے کہ ہم اپنی قربانیوں کو تیز کر کے خدا کے انعاموں کے جلدی وارث بن جائیں۔اور ہمارے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ ہم قربانیاں کرنے میں دیر اور مستی سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کو پیچھے کرتے جائیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہم سے مشروط ہے۔ہم جتنی جلدی اپنی قربانیاں پیش کریں گے اللہ تعالیٰ اتنی جلدی ہی اپنا وعدہ پورا کرے گا اور ہم جتنی سنتی سے کام لیں گے اتناہی اللہ تعالیٰ کا وعدہ پیچھے بہتا جائے گا۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے نفسوں میں غور کرے اور کسی فیصلے تک پہنچنے کی کوشش کرے اور اپنے دلوں کو قومی کر کے اور اپنے حوصلوں کو بلند کر کے قربانیوں کے اس رستہ کو اختیار کرے جو جلد سے جلد ہمیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنادے۔ہمارا قربانیوں کا موجودہ طریق ایسا ہے کہ اس کے متعلق میں نہیں کہہ سکتا کہ اس طرح وہ کام جو ہمارے سپر د کیا گیا ہے صدیوں میں بھی ہو سکے گا یا نہیں۔اگر ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ہم جلدی اس کام کو سر انجام دے لیں تو ہمیں اپنے اندر غیر معمولی تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ایسی تبدیلی کو ہم تو ہم غیر بھی محسوس کرنے لگیں کہ اب یہ لوگ کچھ اور ہی بن گئے ہیں۔جب تک یہ تبدیلی اور یہ تغیر تم اپنے اندر پیدا نہیں کرتے اس وقت تک تمہیں کسی عظیم الشان کامیابی کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔میرے نزدیک تو اکثر لوگ اس عہد کو ہی بھول جاتے ہیں جو انہوں نے بیعت کے وقت کیا تھا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔اگر لوگوں کو اپنا عہد یاد ہو تا تو مجھے وقف زندگی کا مطالبہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔بیعت کے معنے ہی اپنے آپ کو بیچ دینے کے ہیں لیکن اگر ان باتوں کو نظر انداز بھی کر دیا جائے کہ عام لوگ اس عہد کو بھول جاتے ہیں تو پھر کم سے کم وہ لوگ جو اپنی زندگی وقف کرتے ہیں ان کو ہی بیعت کا مفہوم اور وقف زندگی کے معنے سمجھنے چاہئیں۔جب ایک شخص زندگی وقف کرتا ہے تو وہ خود یہ معاہدہ کرتا ہے کہ میں کسی تنخواہ کا مستحق نہیں ہوں گا۔میں بھوکار ہوں گا، اگر مجھے پیدل چلنا پڑے گا تو پیدل چلوں گا، خواہ مجھے دنیا کے کناروں تک ہی کیوں نہ پیدل چلنا پڑے، آپ جہاں بھیجیں