خطبات محمود (جلد 27) — Page 427
*1946 427 32 خطبات محمود وقت آگیا ہے کہ جماعت تبلیغ کے لئے وفد در وفد نکلے ) فرموده 6 ستمبر 1946ء بمقام ڈلہوزی) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم میں رسولوں کا ایک ہی کام بتایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ ہم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا 1 کہ ہم نے تجھے ایک ہی کام کے لئے بھیجا ہے جس کے دو حصے ہیں۔ایک تو یہ کہ تو مومنوں کو بشارت دے اور دوسرے متکبر اور سرکش انسانوں کو ہوشیار کرے۔اس آیت سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ نبی کا کام یہ ہے کہ جو لوگ اُس پر ایمان لے آئیں اُن کی تربیت کرے اور جو اسے نہیں مانتے ان کو سمجھائے کہ وہ سچائی کو قبول کر لیں۔نبی اپنے ماننے والوں کے لئے بشیر اور نہ ماننے والوں کے لئے نذیر ہوتا ہے۔نبی کی تعلیم پر عمل کرنے سے دنیا میں نیکی اور تقویٰ پھیلتا ہے اور بنی نوع انسان کو آرام اور سکھ کی زندگی نصیب ہوتی ہے اور بلحاظ نذیر ہونے کے غافل لوگوں کو ان کی خواب غفلت سے جگایا جاتا ہے اور سیدھے راستے کی ہدایت کی جاتی ہے۔انبیاء جو کام شروع کرتے ہیں اُن کی وفات کے بعد اُن کی جماعتیں اُن کاموں کو جاری رکھتی ہیں۔نبوت کی ضرورت اُسی وقت ہوتی ہے جب لوگ ہدایت سے دور چلے جاتے ہیں اور پہلے نبی کی تعلیم اور اس کے مشن کو بالکل بھول جاتے ہیں اور ان کی تبلیغی جد و جہد ختم ہو جاتی ہے۔دلوں میں محبت کی بجائے شقاق اور نفاق جاگزین ہو جاتا ہے اور ان میں اس قدر پراگندگی پید اہو جاتی ہے کہ ان دلوں کا جمع کرنا محال ہو جاتا ہے۔ایسے وقت میں نبی آتا ہے وہ آکر اُن چیزوں کو دور کرتا ہے۔لیکن ان لوگوں کے عقائد