خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 419

خطبات محمود 419 *1946 مہینہ تمہارا استاد بن جائے گا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ سوچ بچار کرنے سے تم اپنے استاد آپ بن جاؤ گے۔بعض لوگ مجھے کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی دعا سکھا دیں۔میں انہیں جواب دیا کرتا ہوں کہ سورۃ فاتحہ ہی سب سے بڑی دعا ہے۔وہ تمہیں آتی ہے تو پھر تمہیں کسی اور دعا کے سیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔دوسروں کے دعائیں سکھانے سے کچھ نہیں بنتا۔اصل دعا وہ ہے جو انسان کے اندر سے آپ پیدا ہوتی ہے۔یہ صاف بات ہے کہ جو درد اندر سے پیدا نہ ہو دوسرے لوگوں کے کہنے سے پیدا نہیں ہو سکتا۔اور دعا کی قبولیت کے لئے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ اس کے ساتھ رقت اور سوز و گداز ہو۔جتنا سوز و گداز زیادہ ہو گا اتنی ہی دعا قبولیت کا رنگ اختیار کرے گی۔کسی نے کہا ہے ”جو منگے سو مر رہے مرے سو منگن جا۔“جو مرتے نہیں اُن کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔صرف منہ سے کہہ دینے سے کچھ فائدہ نہیں ہو تاجب تک اُس دعا کے ساتھ پر درد جذبات نہ ہوں۔رسول کریم صلی الم نے یتیم اور مظلوم کی دعا کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ عرش الہی کو ہلا دیتی ہیں۔7 انہیں کوئی لمبی لمبی دعائیں کرنے کی ضرورت نہیں اُن کی ایک آہ ہی عرش کو ہلانے کے لئے کافی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ درد کے جذبات سے پر ہوتی ہے۔اور وہ اس بادل کی طرح ہوتی ہے جو پانی سے پر ہوتے ہیں اور اپنے پانی سے زمین کا چپہ چپہ گیلا کر دیتے ہیں۔اور جو دعا جذبات درد سے خالی ہے وہ سوکھے بادل کی طرح ہے کہ جس میں پانی کا ایک قطرہ نہیں ہوتا۔صرف اس کے ساتھ آندھی ہوتی ہے اور بسا اوقات وہ گھروں کی چھتوں کو اڑا کر لے جاتا ہے۔پس تمام احمدی دوستوں کو، اپنے لئے، اپنے ہمسائیوں کے لئے، اپنی جماعت کے لئے، باقی مسلمانوں کے لئے، موجودہ زمانہ کی مشکلات اور اس کے خطرات کو سوچ سوچ کر دعائیں کرنی چاہئیں تا اُن کی دعائیں جذبات کے ماتحت ہوں۔اور باقی مسلمانوں کو بھی تحریک کرنی چاہئے کہ وہ دعا کی طرف توجہ کریں۔افسوس ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت دعا کی اہمیت کا احساس نہیں رہا۔بیٹھے ہوئے تسبیحیں پھیرتے ہیں لیکن نماز، روزہ اور دعا کی غرض سے ناواقف ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں قرآن کریم کی محبت کم ہو گئی ہے اور اس کی