خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 366

*1946 366 خطبات محمود آباؤ اجداد نے گزارہ کیا اس کے نہ ہونے کی وجہ سے ہم کس قدر پریشان ہوئے ہیں۔لیکن بعض ایسی چیزیں ہیں جن کا کسی وقت بھی بنی نوع سے جد اہونا تصور نہیں کیا گیا اور کوئی وقت ایسا نہیں آیا کہ انسان تھا اور وہ چیز نہ تھی اور وہ انسان کی عزت ہے۔کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کوئی زمانہ ایسا بھی تھا جس وقت افراد کی عزت نہ تھی یا قوم کی عزت نہ تھی۔ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ایک وقت ایسا تھا کہ جب ریل نہ تھی، ایک زمانہ ایسا تھا کہ جب ڈاک کا انتظام نہ تھا لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی وقت ایسا بھی تھا کہ جب قومی وقار نہ تھا اور کوئی وقت ایسا بھی تھا جب افراد کی نظروں میں ان کی عزت بے حقیقت تھی۔جب سے آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اُسی وقت سے یہ جذبہ انسان کے دل میں موجزن ہے کہ وہ اعزاز کے مقام کو حاصل کرے اور عزت نفس کا یہ جذبہ جس طرح افراد میں موجزن ہے اسی طرح اقوام میں بھی موجزن ہے۔لیکن جب کسی چیز کا احساس مٹ جائے تو وہی چیز ہاتھ سے نکل جانے پر انسان کو تکلیف نہیں ہوتی اور وہ اس کے حاصل کرنے کے لئے کوشش بھی نہیں کرتا۔مسلمانوں کو جتنا صدمہ ریل یا آجکل ڈاک کے بند ہونے سے ہوا ہے کیا اس کا ہزارواں حصہ بھی ان کو اسلام کی شوکت کے ضائع ہونے پر ہوا ہے؟ کتنے لوگ ہیں جن کو اسلام کی کسمپرسی کی حالت دیکھ کر اتنا صدمہ ہوا ہو جتنا انہیں ڈاک کے بند ہونے سے ہوا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ریل اور ڈاک کے بند ہونے کی تکلیف اسلام کی شوکت کے ضائع ہونے کی تکلیف کے مقابل پر اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتی جتنی کروڑ روپیہ کے مقابل میں ایک دھیلا کی۔اگر ایک دھیلا کے برابر بھی مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے لئے درد ہو تا تو بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کو اسلام سے کچھ لگاؤ ہے۔لیکن ہمیں تو یہ حالت بھی نظر نہیں آتی۔میں جب کبھی نقشہ پر نگاہ ڈالتا ہوں یا خیالی طور پر اپنے سامنے نقشہ رکھتا ہوں تو میرا دل تڑپ اٹھتا ہے کہ مسلمان کیا تھے اور کیا ہو گئے ہیں۔کجاوہ حالت کہ امریکہ اور چین اور دنیا کے دوسرے تمام ممالک تک مسلمان پہنچے اور ان علاقوں میں اسلام کا جھنڈ ابلند کیا اور دنیا پر یہ بات ثابت کر دی کہ اسلام کا مقابلہ ناممکن ہے۔امریکہ میں بھی بعض مساجد پائی گئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بعض مسلمان کشتیوں کے ذریعہ امریکہ پہنچے۔