خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 22

خطبات محمود 22 *1946 ایک جنگ میں حضرت سعد کمانڈر تھے۔ان کو ایک نو مسلم سپاہی کے متعلق شکایت پہنچی کہ اس نے شراب پی ہے۔حضرت سعد نے اسے قید کر دیا۔حضرت سعد کے ٹرین پر گمبھیر 7 تھا۔اس لئے سواری پر نہ بیٹھ سکتے تھے۔آخر عرشہ بنوایا گیا اور عرشے پر نیم دراز ہو کر حضرت سعد احکام جاری فرماتے رہے۔جہاں حضرت سعد کا خیمہ تھا اس کے پاس ہی وہ سپاہی قید تھا۔جس وقت لڑائی کے نعرے بلند ہوتے یا لڑائی کے میدان سے کوئی افسوسناک آواز آتی تو یہ نو مسلم غصے کی وجہ سے زنجیر کو کھینچتا اور کہتا اے کاش! میں آج جنگ میں شریک ہو تا۔کوئی مسلمان ایسا ہے جو مجھے آزاد کر دے گو میں گنہگار تو ہوں لیکن اسلام کا درد میرے سینے میں دوسروں سے کم نہیں۔مگر مسلمان سپاہی اس کو آزاد کرنے کی جرأت نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ حضرت سعد کی ناراضگی سے ڈرتے تھے۔آخر ان کی بیوی نے کہا کہ خواہ کچھ ہو جائے میں اس کی زنجیر کھول دیتی ہوں۔مجھ سے اس کی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی۔انہوں نے اس کی زنجیر کھول دی اور اسے آزاد کر دیا۔وہ منہ پر نقاب ڈال کر مسلمانوں میں شامل ہو گیا۔مسلمان لشکر کے ساتھ مل کر وہ جس جگہ بھی حملہ کر تا باقی لشکر کے دل بھی بڑھ جاتے تھے۔جب شام کو لڑائی بند ہوئی تو وہ بھاگ کر اپنی جگہ پر آگیا اور حضرت سعد کی بیوی نے اس کو پھر زنجیر لگادی۔حضرت سعد کو شک پڑتا تھا کہ آج حملہ کے وقت فلاں آدمی معلوم ہو تا تھا کیونکہ حملہ تو اسی طرح کرتا تھا۔پھر کہتے وہ تو قید ہے وہ نہیں کوئی اور ہو گا۔اگلے دن پھر جب لڑائی شروع ہوئی تو حضرت سعد کی بیوی نے اسے کھول دیا اور وہ پھر مسلمان لشکر میں جاملا اور نہایت شجاعت اور بہادری سے دشمن کے لشکر پر حملہ کرتا رہا۔آخر شام کو جب مسلمانوں کو فتح ہوئی اور حضرت سعد کو شک پڑ گیا کہ حملہ کے وقت مجھے وہی سپاہی معلوم ہو تا تھا جسے میں نے قید کیا ہوا ہے۔بیوی سے کہا تمہاری شرارت معلوم ہوتی ہے۔معلوم ہو تا ہے تم نے اسے کھول دیا تھا۔میں تمہیں قانون شکنی کی سزا دوں گا۔بیوی نے کہا آپ جو سزا چاہیں مجھے دیں لیکن میری غیرت نے یہ برداشت نہ کیا کہ میرا خاوند تو محض لڑائی کا نظارہ دیکھتا رہے اور جس شخص کو اسلام کا اس قدر درد ہو کہ وہ لڑائی کی آوازوں پر زنجیر کو توڑنے کی کوشش کرے اسے اس طرح قید رکھا جائے۔بیوی کی یہ دلیرانہ بات سن کر حضرت سعد کا غصہ جاتا رہا اور انہوں نے اس