خطبات محمود (جلد 27) — Page 281
*1946 281 خطبات محمود مگر انہوں نے اس غور میں دو تین دن گزار دیئے کہ آٹا اس پر پسوائیں یا اُس پر پسوائیں۔مجھے یہ بات معلوم ہوئی تو میں نے کہا انہیں غور کرنے دو۔وہ تو ہمارے جانے کے بعد بھی اس پر غور کر کے کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔سر دست کوئی اور آدمی چلا جائے اور آٹا پسوالائے۔چنانچہ آدمی گیا اور آٹا پسوا کر لے آیا۔یہ بھی ویسا ہی غور ہے جیسا میاں قدرت اللہ صاحب مرحوم کا غور تھا۔مگر اُس غور میں تو کوئی زیادہ حرج نہیں تھا کیونکہ گاؤں والوں سے آٹا مل جاتا۔وہاں احمدیوں کا سو دو سو گھر ہے اگر دو دو چار چار سیر آٹا بھی ایک ایک گھر سے قرض لیا جاتا تو چار پانچ دن تک گزارہ ہو جاتا۔بعد میں اپنا آٹا آجاتا تو لوگوں سے مانگا ہوا آٹا انہیں واپس کیا جا سکتا۔لیکن اگر ہمیں گاؤں والوں سے آٹا نہ مل سکتا تب بھی کیا ہوتا؟ یہی ہوتا کہ ایک دو وقت کا فاقہ آجاتا اور فاقہ ایسی چیز نہیں جو انوکھی ہو۔دنیا میں اور بھی کئی لوگ فاقہ کرتے ہیں۔مگر یہ کام ایسا نہیں کہ اگر اس کے متعلق ہمارا غور لمبا ہو جائے تو بعد میں اس سے پیدا شدہ نقصانات کا ازالہ ہو سکے یا ان نقصانات کو برداشت کیا جاسکے۔ہماری جماعت کو سمجھنا چاہئے کہ ہماری حالت اس وقت بنتیں دانتوں میں زبان کی طرح ہے۔اور ہماری تھوڑی سی غفلت ہمارے کاموں کو اس طرح نقصان پہنچاسکتی ہے کہ بعد میں ہمارے لئے اس کا ازالہ بالکل ناممکن ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ بعض دفعہ غور اتنا لمبا چلا جاتا ہے کہ کام کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اہم امور میں غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ غور کا سلسلہ ختم ہی نہ ہو اور قومی کاموں کو نقصان پہنچ جائے۔مگر عام طور پر لوگوں میں یہ نقص پایا جاتا ہے کہ جب بھی کوئی بات ہو وہ کہتے ہیں ہم غور کر رہے ہیں اور پھر وہ وقت کبھی آتا ہی نہیں جب ان کے غور کا سلسلہ ختم ہو۔گویا یہ ایک ایسا لفظ ہے جو بظاہر تو نہایت اچھا ہے لیکن جس مفہوم میں لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں وہ نہایت گندہ ہے۔وہ الفاظ ایسے استعمال کرتے ہیں جو طبیعت پر نیک اثر ڈالنے والے ہوتے ہیں اور سننے والے سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بڑے مدبر ہیں، انہیں غور اور فکر کی بڑی عادت ہے لیکن ان کا اصل مقصد کچھ اور ہوتا ہے اور وہ اس اچھے اور نیک لفظ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کوئی شخص نماز پڑھا کرتا تھا۔