خطبات محمود (جلد 27) — Page 279
*1946 279 خطبات محمود اس کے افسران کو تنبیہہ کریں۔ان لڑکوں کے متعلق میں حکم دیتا ہوں کہ تین مہینہ تک اس مسجد کے صرف جنوب مشرقی کو نہ میں بیٹھ سکتے ہیں کسی اور حصہ میں نہیں بیٹھ سکتے۔“ اس موقع پر حضور نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ :۔وو ” وہ کونہ جو نظر آ رہا ہے اس کے آخری حصہ میں ان کو بیٹھنے کی اجازت ہو گی۔قریب آنے کی اجازت نہیں ہو گی اور امور عامہ اس بات کا ذمہ دار ہو گا کہ اس کے آدمی آئندہ اس امر کی نگرانی رکھیں کہ یہ لڑ کے امام کے راستہ میں یا اس کے قریب تو نہیں بیٹھتے۔اس کے بعد میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ الیکشن پھر ہونے والے ہیں اور ان کے لئے لسٹیں بن رہی ہیں۔میرے پاس جو رپورٹیں آتی رہتی ہیں ان سے مجھے یہ بات نہایت افسوسناک طور پر معلوم ہوئی ہے کہ جماعتیں پورے طور پر اس کام کی طرف توجہ نہیں کر رہیں۔اور تو اور قادیان کی جماعت کا یہ حال ہے کہ ناظر امور عامہ نے مجھے لکھا کہ میں بعض محلوں میں گیا تو باوجود اس کے کہ اعلان پر ڈیڑھ مہینہ گزر چکا ہے ایک پریذیڈنٹ نے کہا کہ ہم غور کر رہے ہیں کل یا پرسوں کام شروع کر دیں گے۔مجھے اس پر ایک اپنا غور کرنے کا لطیفہ یاد آگیا مگر وہ تو ایسا غور تھا کہ اگر اس میں کوئی غلطی ہو جاتی تو کوئی قومی نقصان نہیں تھا، زیادہ سے زیادہ ہمیں ایک وقت کھانے کی تکلیف ہو جاتی مگر یہ غور بڑا خطرناک ہے۔میں ایک دفعہ دریا پر سیر کے لئے گیا یہاں قدرت اللہ صاحب مرحوم ایک مخلص احمدی تھے وہ ان پڑھ تھے اور بھیل قوم میں سے تھے لیکن آدمی اخلاص والے تھے چونکہ ہمارے ساتھ قافلہ بہت بڑا ہوتا ہے مجھے ایک دو دن کے بعد معلوم ہوا کہ آٹا ختم ہو رہا ہے۔باورچی میرے پاس آیا اور اس نے اطلاع دی کہ کل صبح آٹا ختم ہو جائے گا آج ہی کوئی انتظام کرنا چاہئے ورنہ کل تکلیف ہو گی۔میں نے ان کے اخلاص اور محبت کو دیکھ کر چاہا کہ یہ کام ان سے لیا جائے۔یوں بھی اُن سے بے تکلفی تھی کیونکہ وہ ہمارے ہاں کام کرتے رہے تھے۔میں نے ان کو بلا یا اور کہا میاں قدرت اللہ صاحب! میں آپ کے سپر د ایک کام کرنا چاہتا ہوں مگر وہ کام ذرا جلدی کرنے والا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ یہاں بیسیوں مہمان آتے رہتے ہیں اور ہمارا قافلہ بھی بہت بڑا ہے۔باورچی نے یہ اطلاع دی ہے کہ کل صبح آٹا ختم ہو جائے گا۔آپ گندم کی دو بوریاں