خطبات محمود (جلد 27) — Page 17
*1946 17 خطبات محمود ہیں اور ہماری امداد کرنے کی بجائے انہوں نے سٹرائیک کی ہوئی ہے۔جو نکمے اور نکھد لڑکے ہوتے ہیں وہ ہمیں دیتے ہیں۔نہ وہ تعلیمی لحاظ سے اچھے ہوتے ہیں، نہ ان کو محنت کی عادت ہوتی ہے۔جب ان کو کسی کام پر لگایا جاتا ہے تو وہ بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔معاہدے پر دستخط کرتے ہیں پیاسار ہوں گا، ایک پیسہ تک سلسلہ سے نہ لوں گا، جنگلوں میں جاؤں گا، پہاڑوں میں جاؤں گا، جہاں جانا پڑے مجھے کوئی عذر نہ ہو گا، اپنی جان و مال اور عزت کی قربانی کروں گا۔لیکن جب اس کو کسی جگہ مقرر کیا جاتا ہے تو وہاں سے بھاگ جاتا ہے اور ساتھ ہی خط بھی لکھ دیتا ہے کہ چالیس روپے میں گزارہ نہیں ہو سکتا تھا اس لئے میں اس کام کو چھوڑنے پر مجبور ہوں۔مجھے معاف کیا جائے اور مجھے واقفین میں ہی سمجھا جائے۔کجاوہ وعدہ جو اس نے ہمارے ساتھ کیا تھا اور کُجا اس کا یہ فعل۔ایک واقف نے لکھا کہ میں اداس ہو گیا تھا اور وہاں میرا دل نہیں لگتا تھا اس لئے میں وہاں سے گھر آگیا ہوں مجھے معاف کیا جائے۔امید ہے کہ میرے وقف کو توڑا نہیں جائے گا۔مجھے حیرت آتی ہے کہ ایسے شخص کا وقف کس طرح قائم رہ سکتا ہے۔میدان سے بھاگ کر اپنے ماں باپ کی بغل میں بیٹھا رہے یا بیوی کے پاس وقت گزارے اور اس کا وقف بھی قائم رہے یہ تو عقل کے بالکل خلاف ہے۔ہر واقف مجاہد ہے اور مجاہد پر اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی ذمہ داریاں ڈالی ہوئی ہیں۔ان کو پورا کرنے والا ہی مجاہد کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔میرے نزدیک نوجوانوں میں محنت سے کام نہ کرنے کی عادت کی ذمہ داری استادوں اور والدین پر عائد ہوتی ہے کہ کیوں انہوں نے بچوں کو محنت اور مشقت کا عادی نہیں بنایا۔ہمارا مقابلہ تو اُن قوموں سے ہے جن کے نوجوانوں نے چالیس پچاس سال تک شادی نہیں کی اور اپنی عمریں لیبارٹریوں میں گزار دیں اور کام کرتے کرتے میز پر ہی مرگئے اور جاتے ہوئے بعض نہایت مفید ایجادیں اپنی قوم کو دے گئے۔مقابلہ تو ایسے لوگوں سے ہے کہ جن کے پاس گولہ بارود اور دوسرے لڑائی کے ہتھیار نہ رہے تو انہوں نے امریکہ سے رڈی شدہ بندوقیں منگوائیں اور انہی سے اپنے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔انگلستان والوں نے کہا کہ بے شک جر من آجائے ہم اس سے سمندر میں لڑیں گے۔اگر سمندر میں لڑنے کے قابل نہ رہے تو پھر اس سے سمندر کے کناروں پر لڑیں گے۔اور اگر سمندر کے کناروں پر لڑنے