خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 226

*1946 226 خطبات محمود اور کھاؤ۔تمہارا کام یہ ہے کہ تم انہیں خدا تعالیٰ کی بادشاہت کی خبر دو۔اور ان کا کام یہ ہے کہ وہ تمہارا پیٹ بھر دیں۔یہ سودا ان کے لئے بہر حال سستا ہو گا کیونکہ جو کچھ وہ دیں گے وہ ایک حقیر اور ذلیل چیز ہو گی۔اگر دو روٹیاں وہ ایک مبلغ کے پیٹ میں نہ ڈالتے تو وہ سڑ جاتیں پاکستان کو کھا جاتا۔لیکن اگر ان کو یہ روحانی تعلیم نہ ملتی اور وہ اس حالت میں مر جاتے تو دوزخ میں جاتے۔پس آدمی اور آدمی اور آدمی، ساری دنیا کے کناروں سے یہی آواز آرہی ہے کہ ہماری طرف آدمی بھیجو، ہماری طرف آدمی بھیجو، ہم تھوڑے ہیں مگر اتنے تھوڑے نہیں کہ ان ضرورتوں کو پورا نہ کر سکیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے اندر ایمان ہو ، ہمارے اندر اخلاص ہو ، ہمارے اندر تقویٰ ہو اور ہمارے دلوں میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا کے حصول کی تڑپ ہو۔اگر ایمان اور اخلاص اور تقویٰ اور خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول ہر وقت ے مد نظر ہو اور ہمارا دین اور دنیا کا کوئی کام بھی ان سے خالی نہ ہو تو پھر آدمی ہی آدمی ہو جائیں گے۔لیکن اگر ہمارے اندر تقویٰ نہ ہو تو ہماری ایسی ہی مثال ہو گی جیسے ایک انگریز شاعر نے کہا کہ : Water water Every where and not a drop to drink پانی، پانی، چاروں طرف پانی ہے مگر پینے کے لئے ایک قطرہ بھی نہیں۔ایک شخص سمندر میں بہتا چلا جارہا تھا اور چونکہ سمندر کا پانی پینے کے ناقابل ہوتا ہے اس نے کہا میرے چاروں طرف پانی ہی پانی ہے مگر پینے کے لئے ایک قطرہ بھی میرے پاس نہیں۔یہی حالت نَعُوذُ بِالله ہماری ہو گی کہ ہمارے چاروں طرف آدمی ہی آدمی ہوں گے مگر کام کے آدمی ہمیں میسر نہیں ہوں گے۔لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے میں امید کرتا ہوں کہ وہ خدا جس نے ہمیں سہارا دیتے ہوئے اس حد تک پہنچایا ہے کہ ایک بیج سے اس نے لاکھوں درخت پیدا کر دیئے ہیں وہ اس تاریکی اور ظلمت کے وقت میں جبکہ کام کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے ہمیں ضائع نہیں کرے گا اور ہمیں چھوڑے گا نہیں۔بلکہ وہ خود لوگوں کے دلوں میں اخلاص اور ان کے دماغوں میں فکر صحیح پیدا کرے گا؟ اور جماعت کے لوگوں کو ہمت بخشے گا کہ وہ آگے بڑھ کر اس