خطبات محمود (جلد 27) — Page 215
*1946 215 خطبات محمود بادشاہ سے بھی خط و کتابت کر رہا تھا اور مسلمان بادشاہوں کو لکھ رہا تھا کہ اگر ہندوستان سے اسلام اور مسلمانوں کی عظمت چلی گئی تو عیسائیت غالب آجائے گی اور پھر عیسائیت کے غلبہ سے تمہیں بھی نقصان پہنچے گا۔تم جو بھی شرطیں طے کرو ، مجھے سب منظور ہیں۔لیکن آؤ اس موقع پر ہم متحد ہو کر عیسائیت کو اس ملک سے نکال دیں۔اس وقت کسی کی غیرت جوش میں نہ آئی اور کوئی بادشاہ اس کی مدد کے لئے نہ اٹھا۔نپولین اپنے سیاسی مصالح کے ماتحت اس کی مدد کے لئے آنے پر تیار ہوا لیکن خود مسلمانوں نے اسے شام میں شکست دے دی۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ اگر نپولین آتا تو وہ اچھا سلوک کرتا۔ممکن ہے وہ انگریزوں سے بھی بد تر سلوک کر تالیکن سلطان ٹیپو نے اس سے بھی دریغ نہیں کیا کہ وہ نپولین کو اپنی مدد کے لئے بلائے۔جب حیدر آباد اور دوسری مسلمان ریاستوں کی مدد سے انگریزی فوج ٹیپو پر غالب آگئی تو آخر سلطان ٹیپو اپنے قلعہ میں محصور ہو گیا۔ایک دن امراء میں سے بعض نے انگریزوں سے رشوت لے کر اس قلعہ کا دروازہ کھلوا دیا۔وہ ایک جگہ فصیل کے پاس کھڑا انگریزی فوجوں سے اپنی فوج کو لڑا رہا تھا۔خندق پاس تھی اور وہ اپنے سپاہیوں کو مختلف احکام دے رہا تھا کہ اس کا ایک جانباز سپاہی دوڑ تا ہوا آیا اور اس نے کہا حضور ! کسی غدار نے قلعہ کا دروازہ کھول دیا ہے اور ایک بہت بڑی انگریزی فوج آپ کی طرف بڑھتی چلی آرہی ہے۔اب ایک ہی صورت نکلتی ہے کہ آپ کسی طرح جان بچا کر یہاں سے نکل جائیں۔اس وقت ٹیپو نے نہایت ہی حقارت اور غصہ کی نگاہ سے اسے دیکھا اور کہا کیا فضول مشورہ دیتے ہو !! ایک شیر کی دو گھنٹہ کی زندگی گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔یہ کہا اور تلوار کھینچ کر میدان میں کود پڑا اور وہیں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔در حقیقت بات یہی ہے کہ ہر غیرت مند انسان کی ایک گھنٹہ کی زندگی گیدڑ کی سوسال کی زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔اگر ہندوستان کے ایک شکست خوردہ مسلمان بادشاہ اسلام کی عزت بچانے کے لئے ایک گھنٹہ کی موت کو سو سال کی زندگی پر ترجیح دیتا ہے تو وہ کیسا احمدی ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ میری چالیس یا پچاس یا ساٹھ یا سو سال کی زندگی جس میں میں نوکری اور دوسروں کی غلامی کے سوا کوئی اور کام نہیں کر سکوں گا، وہ اسلام کے لئے مر جانے سے زیادہ بہتر ہے۔یقیناً ایسا انسان نادان ہے۔یقیناً وہ مجنون ہے۔یقیناً اس کی عقل پر پردہ پڑا ہوا ہے اور