خطبات محمود (جلد 27) — Page 201
*1946 201 خطبات محمود جاپانی قوم برابر ترقی کرتی چلی گئی تھی۔اسی طرح یہودی لوگ دین سے بالکل بے بہرہ ہو چکے ہیں لیکن باوجود اس کے وہ دنیا میں اتنی ترقی کر چکے ہیں کہ مالیات کا صیغہ اب یہودیوں کے ہاتھ میں ہی ہے۔دنیا میں بظاہر انگلستان، امریکہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی وغیرہ حکومتیں کر رہے تھے مگر دراصل مالیات کے ذریعہ یہودی دنیا میں حکومت کر رہے تھے اور ان کی اس حکومت کو دیکھ کر ہی ہٹلر اور مسولینی نے یہودیوں کو تباہ کرنے کا ارادہ کیا۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ باوجود اس کے کہ ظاہری طور پر ہم بادشاہ ہیں در حقیقت بادشاہت ان کے اختیار میں ہے اور وہ جس طرف چاہتے ہیں تجارت کو مروڑ دیتے ہیں، جس طرف چاہتے ہیں صنعت و حرفت کو مروڑ دیتے ہیں، جس طرف چاہتے ہیں علوم و فنون کو مروڑ دیتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں سیاسیات پر اثر ڈال کر مالیات کو مروڑ دیتے ہیں۔اس لئے اس قوم کو اپنے ملک سے نابود کر دینا چاہئے۔پس باوجود اس کے کہ دین کو انہوں نے چھوڑ دیا تھا پھر بھی دنیوی لحاظ سے ان کو بہت بڑی عظمت حاصل ہوئی۔ان مثالوں کی وجہ سے قدرتی طور پر اور جائز طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دنیوی کوششوں کے ذریعہ عیسائی ترقی کر سکتے ہیں۔اگر دنیوی کو ششوں کے ذریعہ یہودی ترقی کر سکتے ہیں، اگر مذہب چھوڑنے کے باوجود ہندو مذہب ترقی کر سکتا ہے، اگر مذہب چھوڑنے کے باوجود شنٹو ازم ترقی کر سکتا ہے تو مذہب چھوڑنے کے باوجود مسلمان کیوں ترقی نہیں کر سکتے ؟ اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ ان مذاہب سے خدا پہلے ہی دُور ہو چکا ہے۔جس گھر کو خدا تعالیٰ نے چھوڑ دیا ہے اگر وہ ویران ہوتا ہے تو اس پر خفا ہونے کی کوئی وجہ نہیں لیکن جس گھر میں خدا ابستا ہے اگر اس گھر کو کوئی قوم ویران کرے گی تو یقیناً خدا اس سے ناراض ہو گا۔جس مذہب سے خدا مٹ گیا اس کی مثال بالکل اس ملازم کی سی ہے جس نے اپنے آقا کی ملازمت کو ترک کر دیا ہو۔وہ شخص جس نے نوکری چھوڑ دی ہے اس کے کاموں میں غفلت واقع ہونے سے آقا ناراض نہیں ہوتا۔لیکن جو شخص نوکر ہے اگر وہ اپنے کاموں میں غفلت برتا ہے تو اس کا آقا اس پر ضرور ناراض ہوتا ہے۔پس مسلمانوں کی دنیوی حالت اس لئے بگڑی کہ انہوں نے خدا کو چھوڑ دیا۔باوجود اس کے کہ وہ ایک سچے مذہب کے حامل تھے۔یہی حالت اب احمدیوں کی ہے۔اس وقت احمد یہ جماعت کو اللہ تعالیٰ نے ایک سچے مذہب کا