خطبات محمود (جلد 27) — Page 169
*1946 169 خطبات محمود اندازہ لگا سکتا کہ حالات امید افزا ہیں یا مایوس گن۔بہر حال میر افرض ہے کہ میں چند سال تک متواتر جماعت میں بیداری پیدا کرتا چلا جاؤں یہاں تک کہ لوگوں پر اس کی اہمیت واضح ہو جائے اور وہ خود بخود اس طرف توجہ کرنا شروع کر دیں۔اس سال پھر میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لئے پیش کریں۔میں نے بتایا تھا کہ ان کے دو ہی مالک ہیں۔ایک سچا مالک ہے اور ایک جھوٹا مالک ہے۔ایک خدا ان کا مالک ہے اور ایک شیطان ان کا مالک ہے۔تم مجبور ہو اس بات پر کہ بہر حال ان دو میں سے ایک کے سپر د اپنی اولاد کو کر دو۔اگر تم کسی کے سپرد نہیں کرو گے تو بہر حال تمہاری اولاد یا خدا کی طرف چلی جائے گی یا شیطان کی طرف چلی جائے گی۔اگر تم اپنی اولادوں کو خدا کے سپر د نہیں کرو گے تو یقیناوہ شیطان کے قبضہ میں چلی جائیں گی۔اور اپنی اولادوں کو خدا کے سپر د کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے پاس ہر وقت اتنے علماء موجود رہیں جو خدا تعالیٰ کی آواز کو ہر احمدی اور ہر غیر احمدی کے کان میں ڈالتے رہیں۔جب تک ہماری آواز دنیا میں چاروں طرف پھیل نہیں جاتی اور جب تک ایسا ماحول پیدا نہیں ہو جاتا کہ احمدیت اس میں زندہ رہ سکے اس وقت تک ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہمارا صرف بیج بو دینا کافی نہیں بلکہ اس بیچ کے لئے مناسب ماحول کی بھی ضرورت ہے۔دنیا میں خالی بیچ کافی نہیں ہو تا بلکہ بیج کے نشو و نما کے لئے زمین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ہوا کی بھی ضرورت ہے، پانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ساری چیزیں مل کر نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔صرف اتنا کافی نہیں ہوتا کہ بیج بو دیا اور اُٹھ کر گھر چلے آئے۔اسی طرح ایک احمدی کا جب تک ماحول بھی احمدی نہ ہو اس کی احمدیت دائمی طور پر زندہ نہیں رہ سکتی۔احمدیت کی زندگی کی یہی صورت ہے کہ ایک احمدی بچہ جن بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے وہ یا تو احمدیت قبول کرنے والے ہوں یا احمدیت کی آواز سے متاثر ہوں۔جن استادوں سے وہ تعلیم حاصل کرتا ہے وہ یا تو احمدی ہوں یا احمدیت کی آواز سے مرعوب ہوں۔جن دفاتر میں وہ کام کرنے کے لئے جاتا ہے ان میں کام کرنے والے اور اس کے دائیں بائیں اور اردگرد بیٹھنے والے یا تو احمدی ہوں یا احمدیت کی آواز سے مرعوب ہوں۔جن بازاروں میں وہ سودا سلف لینے کے لئے