خطبات محمود (جلد 27) — Page 166
*1946 166 خطبات محمود تیار رہیں اور اتنی بڑی تعداد میں رہیں کہ جماعت کو ضرورت کے وقت وہ آسانی کے ساتھ سنبھال سکیں۔اگر ہم ایسا نہیں کریں گے یا اتنی بڑی تعداد میں اپنی جماعت میں علماء پیدا نہیں کریں گے کہ وہ ضرورت کے وقت جماعت کو سنبھال سکیں اس وقت تک ہر ٹھو کر کے وقت جماعت کے گرنے کا خطرہ ہو گا۔اور علمی لحاظ سے بھی جماعت کبھی اتنی ترقی نہیں کر سکے گی کہ ضرورت کے وقت اس کے افراد آپ آگے بڑھیں اور جماعتی بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیں۔پس ضروری ہے کہ جماعت کے بڑھنے کے ساتھ ہی علماء کی تعداد بھی ہماری جماعت میں بڑھتی چلی جائے۔اس وقت ہماری جماعت میں علماء پیدا کرنے کا ذریعہ مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک زمانہ ایسا بھی آنے والا ہے جب ہماری ضروریات کے لئے صرف مرکزی مدارس ہی نہیں ہندوستان کے کالج اور سکول بھی کافی نہیں ہوں گے اور ہمیں دنیا کے گوشہ گوشہ میں مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ قائم کرنے پڑیں گے۔بلکہ ہر براعظم میں ہمیں ایک بہت بڑی یونیورسٹی قائم کرنی پڑے گی جو دینیات کی تعلیم دینے والی ہو اور جس سے تبلیغ کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جا سکے۔مگر جب تک ہمارا یہ خواب پورا نہیں ہوتا اور جب تک ہمیں ایسے سامان میسر نہیں آتے اس وقت تک ہمیں کم سے کم اتنا تو کرنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس جگہ جو مدرسہ عطا فرمایا ہے اور جو جماعت میں علماء پیدا کرنے کا واحد ذریعہ ہے اس کی ترقی کے زیادہ سے زیادہ سامان مہیا کریں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس مدرسہ کی طرف ابھی تک پوری توجہ نہیں کی۔میں نے پچھلے سال جماعت کو مدرسہ احمدیہ کی طرف توجہ دلائی تھی۔جس کے نتیجہ میں جماعت میں بیداری پیدا ہوئی اور تیس بتیس کے قریب لڑکے مدرسہ احمدیہ کی پہلی جماعت میں شامل ہوئے۔گو دوران سال میں یہ تعداد کچھ کم ہو گئی کیونکہ بعض لڑکے ایسے تھے جنہیں ماں باپ نے واپس بلا لیا اور بعض لڑکے ایسے تھے جو خود ہی بھاگ گئے۔اس طرح آٹھ دس کے قریب تعداد میں کمی واقع ہو گئی۔مگر پھر بھی جو تعداد باقی رہی وہ پہلے سالوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ تھی۔پہلے ہر سال صرف تین چار لڑکے مدرسہ میں داخل ہوتے تھے مگر اس تحریک کے نتیجہ میں قریباً تیں بنتیں ہو گئے۔ان میں سے اگر پچھیں چھیں لڑکے بھی پاس ہو جائیں تو اس کے