خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 153

*1946 153 خطبات محمود کہ انبیاء پر ابتدا میں بڑے لوگ ایمان نہیں لائے۔چنانچہ یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک ثبوت ہے کہ ہماری جماعت میں کوئی بڑا آدمی شامل نہیں۔چنانچہ کوئی ای۔اے۔سی ہماری جماعت میں داخل نہیں۔گویا اس وقت کے لحاظ سے ای۔اے۔سی بہت بڑا آدمی ہو تا تھا مگر اب دیکھو کئی ای۔اے۔سی یہاں گلیوں میں پھرتے ہیں اور ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔لیکن ایک زمانہ میں اعلیٰ طبقہ کے لوگوں کا ہماری جماعت میں اس قدر فقدان تھا کہ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ ہماری جماعت میں کوئی بڑا آدمی داخل نہیں چنانچہ کوئی ای اے سی ہماری جماعت میں داخل نہیں۔گویا اس وقت کے لحاظ سے ہماری جماعت ای۔اے۔سی کی بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی لیکن اب تو کئی آئی۔سی۔ایس بھی ہماری جماعت میں شامل ہیں۔اسی طرح چودھری ظفر اللہ خان صاحب فیڈرل کورٹ کے حج ہیں۔نواب اکبر یار جنگ بہادر نظام دکن کے ہائی کورٹ کے جج تھے۔پھر بڑے بڑے تاجر بھی اب خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ہیں۔ان میں سے ایسے بھی ہیں جو اپنے اخلاص کا ثبوت دیتے رہتے ہیں اور ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اخلاص دکھلائیں تو بہت بڑی رقمیں دے سکتے ہیں۔باقی رہا اعلیٰ عہدے دار سو اس جنگ کے دوران میں فوج میں ہمارے کنگز کمیشن والے افسر جو پانچ سو سے دو ہزار بلکہ زیادہ تنخواہ لیتے تھے دو سو سے زیادہ تھے۔پہلے ہماری جماعت میں صو بیدار بھی بہت کم نظر آتے تھے لیکن اس وقت کئی کرنیل ہماری جماعت میں ہیں۔کئی میجر ہماری جماعت میں ہیں اور کیپٹن اور لیفٹیننٹ تو درجنوں ہیں اور پھر ہر محکمہ میں ہیں۔ہوائی جہازوں کے محکمہ میں بھی ہیں، جہازوں کے محکمہ میں بھی ہیں، بڑی فوج میں بھی ہیں۔مثلاً انفنٹری میں، آرٹلری میں، آرڈینس میں اور سپلائی میں۔چنانچہ ہمارے فوجی دوست بتلاتے ہیں کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جہاں بھی ہماری تبدیلی ہوتی ہے کوئی نہ کوئی احمدی وہاں موجود ہوتا ہے اور شاذونادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی دوسرا احمدی ساتھی نہ ملے کیونکہ سارے ہندوستانی افسر دس ہزار کے قریب ہیں اور ان میں سے دو سو سے اوپر احمدی ہیں۔مسلمان افسروں میں سے تقریباً چھ سات فیصدی احمدی ہیں۔گویاوہ اتنی کثیر تعداد میں ہیں اور اتناز بر دست ان کا حصہ ہے کہ وہ ہر جگہ اپنے آپ کو احمد یوں ہی میں گھرے ہوئے پاتے ہیں۔عراق، ایران،