خطبات محمود (جلد 27) — Page 144
*1946 144 خطبات محمود تھا۔ایک دن اسے یہ شرارت سوجھی کہ گاؤں کے لوگوں سے مذاق کرنا چاہئے۔ایک ٹیلے پر چڑھ کر اس نے شور مچانا شروع کیا شیر آیا شیر آیا دوڑ یو۔گاؤں کے لوگ اپنے کام کاج چھوڑ کر اور لٹھ لے کر دوڑے دوڑے وہاں پہنچے مگر وہاں جا کر دیکھا کہ لڑکا کھڑا ہنس رہا ہے اور شیر وغیرہ کا نام و نشان نہیں۔جب انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ تو وہ کہنے لگا میں تو تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا۔لوگ غصے اور ناراضگی کا اظہار کر کے واپس آگئے۔لیکن چند دنوں کے بعد سچ سچ وہاں شیر آنکلا۔لڑکے نے شور مچانا شروع کیا شیر آیا شیر آیا دوڑ یو لیکن اب گاؤں کے لوگوں کی حالت بالکل اور تھی۔اب کنویں پہ بیٹھا ہوا شخص حقہ پیتا جارہا تھا اور کہہ رہا تھا ایک دفعہ تو تم نے ہم کو بیوقوف بنالیا کیا اب بھی ہم بیوقوف بن سکتے ہیں ؟ ایک دانے پینے والا شخص دانے پیتا جارہا تھا اور ساتھ ساتھ کہتا جارہا تھا کہ ایک دفعہ تو تم نے ہمیں دھوکا دے لیا کیا اب بھی ہم تمہارے دھوکے میں آسکتے ہیں ؟ جب رات ہوئی تو وہ لڑکا گھر نہ پہنچا۔گھر والوں نے تلاش شروع کی۔آخر ایک جگہ سے اس کی ہڈیاں پڑی ہوئی ملیں۔معلوم ہوا کہ اس دفعہ واقع میں شیر آیا تھا اور بوجہ امداد نہ پہنچنے کے لڑکا اس کے حملہ سے بچ نہیں سکا تھا۔پس جب جھوٹ کا ماحول پیدا ہو جائے تو انسان دھوکا کھا جاتا ہے کہ کہیں یہ شخص مجھے فریب نہ دے رہا ہو۔انسان کی عادت ہے کہ جب اس کے سامنے ایک کثیر تعداد جھوٹ بولنے والوں کی آئے تو باقی جو سچ بولنے والے ہوں ان کے متعلق بھی اسے شبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ کہیں یہ بھی جھوٹ نہ بول رہے ہوں۔فرض کرو میرے پاس دس آدمی آتے ہیں ان میں سے پہلے نو آدمی جھوٹ بولتے ہیں اور دسواں آدمی سچ بولتا ہے لیکن ان پہلے نو آدمیوں کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے میری طبیعت پر یہ اثر ہو گا کہ یہ دسواں بھی جھوٹ بول رہا ہے۔اور اگر اس دسویں آدمی کو واقع میں کوئی تکلیف ہے بھی، تو بھی میں اس کی امداد کرنے کو تیار نہیں ہوں گا کیونکہ میں یہ سمجھوں گا کہ جہاں پہلے نو آدمی مجھے بیوقوف بنانے آئے تھے یہ دسواں بھی مجھے بیوقوف بنانے آیا ہے۔پس یادر کھو جھوٹ قوموں کے لئے ایک کیڑا ہے جو ان کے برگ و بار کو کھا جاتا ہے اور انہیں بڑھنے نہیں دیتا۔یہاں سب آدمیوں کے سامنے میں نے ان باتوں کا ذکر اس لئے کیا