خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 140

*1946 140 خطبات محمود ہی پڑتا ہے۔ایک دفعہ نماز میں میری ہوا خارج ہو گئی اور میں نماز چھوڑ کر وضو کرنے کے لئے چلا گیا۔جب میں وضو کر کے آیا تو ایک شخص آگے بڑھ کر مجھے کہنے لگا۔سُبْحَانَ اللہ آپ نے کمال جرات دکھائی۔اس کا یہ مطلب تھا کہ میں بے وضو ہی نماز پڑھاتا رہتا۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود وضو کے ٹوٹ جانے پر بے وضو ہی پڑھ لیتا ہو گا تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے۔پس آج لوگ ذراسی شرمندگی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔اور میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ جس وقت تک ہماری جماعت ہر رنگ میں اچھا نمونہ قائم نہیں کرتی اس وقت تک کوئی بڑی تبدیلی پیدا کرنا ایک مشکل امر ہے۔اگر ہمارے کارکن سچائی کے پابند ہو جائیں تو ہمیں معاملات کی حقیقت سمجھنے میں وہ مشکلات پیش نہ آئیں جو اب ہمیں پیش آتی ہیں۔میں قریب ڈیڑھ گھنٹہ ضائع کر کے اس نتیجہ پر پہنچا کہ انہوں نے ایک ایکڑ کے چار حصے تو کر دیئے ہیں مگر پانی ایک راستہ سے ہی دیتے ہیں اور جن لوگوں نے یہ میرا وقت ضائع کیا اور سچ نما جھوٹ بولنے کی کوشش کی وہ قریباً سارے واقف زندگی ہیں جو اور بھی قابلِ افسوس امر ہے۔جھوٹی عزت کی خاطر انہوں نے میرے سامنے جھوٹ بول دیا۔چونکہ سچ کا قیام میرے نزدیک نہایت ہی ضروری چیز ہے اس لئے جب تک میرے ساتھ معاملہ ہے چاہے میرا کوئی بڑے سے بڑا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اگر اس کا بھی جھوٹ ثابت ہو جائے تو میں اس کے جھوٹ کو بھی نہیں چھپاؤں گا۔اسے کھلے بندوں اس کی غلطی کی طرف متوجہ کروں گا تا اسے اپنی اصلاح کی فکر ہو۔اگر میں ان کے جھوٹ کو ظاہر نہ کروں تو آئندہ ایسے آدمیوں کو جھوٹ پر زیادہ جرات ہو جاتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے جھوٹ کا کسی کو پتہ نہیں لگ سکتا۔اور اگر ان کا جھوٹ ظاہر کر دیا جائے تو انہیں اپنی اصلاح کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔سچائی تو انسانی اخلاق میں سے ایک بنیادی چیز ہے اور جو شخص اپنے مکان کی بنیاد ہی ٹیڑھی رکھے اس کی اوپر کی عمارت کیونکر سیدھی رہ سکتی ہے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ ایک شخص کے والدین اسے بی۔اے یا ایم۔اے تک پڑھاتے ہیں۔اس لئے کہ ان کا لڑکا پڑھنے کے بعد تحصیلدار یا ای۔اے۔سی۔یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس یا آئی۔سی۔ایس بنے گا۔لیکن وہ زندگی وقف کر کے ان کی تمام امیدوں کے گلے پر چُھری پھیر دیتا ہے اور دین کے لئے ہر قسم کی