خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 132

خطبات محمود 132 *1946 پس یہ عربی ممالک میں تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کشتیوں کی تجارت میں احمدیوں کا ہاتھ ہو۔ہماری جماعت کو اس علاقہ کی اہمیت کو جاننا چاہئے۔صرف یہی نہیں کہ سندھ عرب کا دروازہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سلسلہ کو سندھ میں جائیدادیں عطا کی ہیں اور یہ بات بھی بلاوجہ نہیں۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو ہندوستان میں بلا وجہ نہیں بھیجا اسی طرح اللہ تعالیٰ کا سندھ میں ہمیں جائیدادیں عطا کرنا بلاوجہ نہیں۔کیوں نہ اللہ تعالیٰ نے پنجاب میں یا یو پی میں ہمارے لئے زمین خریدنے کے سامان کر دیئے۔پنجاب میں بھی زمینیں بکتی ہیں اور یو۔پی میں بھی اچھی اچھی زمینیں مل سکتی تھیں۔پھر یہاں سندھ میں لانے کی کوئی وجہ تو ضرور ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ زمینیں ایک خواب کی بناء پر خریدی گئی ہیں۔جب میں نے وہ خواب دیکھا تھا اس وقت ابھی سکھر بیراج نہیں بنا تھا اور نہ اس قسم کی کوئی خاص سکیم تھی۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک نہر کے کنارے ایک بند پر کھڑا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ اس علاقے میں طغیانی آگئی ہے اور گاؤں کے گاؤں غرق ہونے شروع ہو گئے ہیں اور میں حیرت کے ساتھ یہ نظارہ دیکھ رہا ہوں کہ اتنے میں میرے ساتھیوں میں سے کسی نے مجھے آواز دی کہ پیچھے کی طرف سے پانی بہت قریب آگیا ہے۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دیکھا کہ تمام قصبے اور گاؤں زیر آب ہو رہے ہیں اور پانی بہت قریب آگیا ہے۔جس کنارے پر میں کھڑا ہوں۔وہاں کچھ اور اشخاص بھی میرے ساتھ کھڑے تھے۔تھوڑی دیر میں پانی اور بھی زیادہ قریب آگیا ہے اور اس نے وہ کنارا بھی اُکھاڑ پھینکا جس پر میں کھڑا تھا اور میں نہر میں تیر نے لگ گیا ہوں۔یہ نہر دُور تک چلی جاتی ہے اور اب ایک دریا کی شکل میں تبدیل ہو گئی ہے۔میں کوشش کرتا ہوں کہ کسی جگہ میرے پیر لگ جائیں۔آخر میں تیر تا تیر تا فیروز پور کے آگے نکل گیا اور بار بار کوشش کے باوجو د میرے پاؤں کہیں نہیں لگے۔اُس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ نہر ، متلج سے جاملی ہے اور اب یہ دریا سندھ دریا میں ملنے کے لئے جا رہا ہے تب میں بہت گھبر ایا اور میں نے دعا شروع کی کہ یا اللہ ! سندھ میں تو میرے پیر لگ جائیں۔یا اللہ ! سندھ میں تو میرے پیر لگ جائیں۔اس دعا کے بعد میں دیکھتا ہوں کہ یکدم ایک اونچی جگہ پر میرے پیر لگ گئے ہیں۔