خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 125

*1946 125 خطبات محمود گزشتہ سال تیس ہزار سے زائد تھا۔وہ چندہ مرکز میں نہیں بھیجا جاتا بلکہ وہیں کے سکولوں، مدارس اور تبلیغی کاموں میں خرچ ہوتا ہے۔اسی طرح ہماری جماعتیں بڑے بڑے شہروں میں مساجد بنواتی ہیں تو اس کا خرچ بھی وہ خود برداشت کرتی ہیں مثلاً کلکتہ کی جماعت نے اسی ہزار روپیہ مسجد کے لئے جمع کیا ہے۔اگر ان چندوں کو بھی ملا لیا جائے تو پندرہ لاکھ سے اوپر ہماری جماعت کے سالانہ چندے ہو جاتے ہیں۔لیکن ہمارے مقابلے میں دوسرے مسلمانوں کی تعداد دس کروڑ ہے اگر وہ بھی اسی طرح قربانی کریں جس طرح ہماری جماعت قربانی کرتی ہے تو وہ کئی ارب روپیہ جمع کر سکتے ہیں۔غیر احمدیوں میں بعض آدمی ایسے ہیں کہ اگر وہ ہمت کریں تو وہ ایک ایک آدمی اپنی دولت کی زیادتی کی وجہ سے ہماری جماعت سے زیادہ چندہ دے سکتا ہے۔لیکن اگر اس بات کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو بہر حال چونکہ وہ ہم سے دو سو گنے زیادہ ہیں اس لئے ان کا چندہ بھی ہم سے دو سو گنا ہونا چاہئے۔جس کے معنے یہ ہوئے کہ ان کی آمد تیس کروڑ روپیہ سالانہ ہونی چاہئے لیکن ہندوستان میں پچھلے پچاس سال میں کسی ایک سال میں بھی ایک کروڑ مسلمانوں نے جمع نہیں کیا ہو گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں وہ اخلاص نہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو عطا کیا ہے۔اگر ان کے اندر بھی وہی اخلاص پید اہو جائے تو ان کا چندہ یقینا گور نمنٹ آف انڈیا کے بجٹ سے بڑھ جائے۔گورنمنٹ آف انڈیا کی آمد ایک ارب روپیہ سالانہ ہے۔مسلمانوں کی تعداد دس کروڑ ہے اور اگر پانچ روپے سالانہ چندہ فی آدمی رکھ لیا جائے تو پچاس کروڑ روپیہ بن جاتا ہے لیکن چونکہ ان میں کئی آدمی بڑے بڑے مالدار بھی ہیں اس لئے بغیر تکلیف کے ایک ارب روپیہ سالانہ جمع کر سکتے ہیں اور ایک ارب روپیہ سالانہ گورنمنٹ آف انڈیا کی آمد ہے۔گورنمنٹ ٹیکسوں کے ذریعہ حکومت کے دباؤ سے یہ روپیہ وصول کرتی ہے لیکن ہمارے سب چندے طوعی ہوتے ہیں۔نہ ہمیں جبر کرنے کی طاقت ہے نہ ہم نے جبر کرنا ہے۔روپیہ دو ہی طرح جمع ہو سکتا ہے یا تو حکومت کے دباؤ سے یا پھر لوگوں کا ایمان اتنا اعلیٰ ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر چیز قربان کرنا اپنی سعادت سمجھیں۔پس احمدیوں کا دوسروں کے چندوں سے بڑھ جانے کی وجہ یہی ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے حلاوتِ ایمان بخشتی ہے۔ہمارا ایک احمدی جو بھوکوں مر رہا ہو وہ اپنے ایمان کی وجہ سے بیوی، بچوں کا پیٹ کاٹ کر ا