خطبات محمود (جلد 27) — Page 2
*1946 2 خطبات محمود جانے والے تھے۔اور جلسہ سالانہ بھی قریب تھا۔وفود کا باہر بھیجنا کوئی معمولی کام نہیں۔ایک نادان اور کو تاہ بین انسان کے نزدیک کسی وفد کا بھیجنا کوئی اہم کام نہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے موقع پر بے انتہا کوشش اور متواتر سرعت کے ساتھ تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ہم نے گزشتہ ایام میں پچیس مبلغ غیر ممالک میں بھیجے ہیں اور آٹھ نو کے قریب تیار ہیں جو جلدی ہی باہر جانے والے ہیں۔لیکن ان کے چلے جانے پر ہمارا کام پورا نہیں ہو جائے گا بلکہ ان پچیس مبلغوں کے جانے کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے اپنے گھر کے پچیس نئے دروازے کھولے ہیں اور جو لوگ ان دروازوں میں سے داخل ہوں گے وہ اپنی ضروریات کو ہمارے سامنے پیش کریں گے۔چنانچہ ایک ملک سے مبلغین کی طرف سے دو تاریں آئی ہیں۔ایک تار میں انہوں نے لکھا ہے کہ ہمیں دس مبلغ بہت جلد بھیجے جائیں۔کرایہ اور دیگر اخراجات کا انتظام ہم کریں گے۔اور دوسری تار میں انہوں نے یہ اطلاع دی ہے کہ جماعت نے مطلوبہ مبلغین کے لئے کرایہ اور دوسرے اخراجات کے لئے کئی ہزار روپیہ جمع کر لیا ہے۔اب ہمیں فوراً مبلغین بھیج دیئے جائیں۔اسی طرح ایک اور جماعت سے اطلاع آئی ہے جو ہے تو اس جماعت کی قدرت اور طاقت سے باہر۔لیکن رپورٹ آئی ہے کہ اس ملک کی جماعت میں ایک جوش پید اہو گیا ہے اور آپس میں انہوں نے تجویز کی ہے کہ ڈیڑھ لاکھ یا اس سے زیادہ روپیہ جمع کیا جائے اور پھر خلیفہ وقت کو اپنے ملک میں آنے کی دعوت دی جائے تاکہ مصلح موعود والی خواب میں وہ بھی شریک ہو جائیں۔کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں دوسرے ملکوں کی طرف جا رہا ہوں۔وہ چاہتے ہیں کہ اس خواب میں ان کے ملک کا بھی حصہ ہو اور وہ بھی اس میں شریک ہو جائیں۔ایک اور جگہ سے تار آئی ہے کہ وہاں انگریزی پڑھانے والے مدرسین کی بہت ضرورت ہے اور بی۔اے۔بیٹی پاس لوگوں کی وہاں بہت کھپت ہے۔گو یہ تبلیغ کا حصہ نہیں لیکن اشاعتِ اسلام اور تبلیغ احمدیت میں یہ لوگ بہت ممد و معاون ہو سکتے ہیں۔یہ سہ ایسے ہیں جو فوری طور پر کام کی طرف توجہ چاہتے ہیں۔بہر حال ہم ان کی اس مانگ کو پیچھے نہیں ڈال سکتے لیکن اس وقت ہمارے پاس ایسے مبلغ موجود نہیں جن کو ہم فوری طور پر ان کے پاس بھیج دیں۔نئے مبلغ اس صورت میں ان کے پاس بھیجے جا سکتے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو