خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 100

خطبات محمود 100 *1946 اس کے کچھ دن بعد میں کھانا کھا رہا تھا کہ فون آیا کہ پریمیر (Premier) صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔جس بات کے لئے ملک خضر حیات خاں صاحب نے مجھے فون کیا وہ تو اور تھی گو الیکشن کے سلسلے میں ہی تھی۔مگر اسی سلسلہ میں انہوں نے بتایا کہ صاحبزادہ فیض الحسن صاحب میرے پاس آئے تھے لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔میں نے ان سے کہا میں نے تو وعدہ آپ سے کیا تھا۔اب آپ جس کے حق میں فیصلہ کر دیں ہم اسے ووٹ دیں گے۔اسی فون میں یا غالباً دوسرے فون میں (میرا خیال ہے کہ دوسرے فون میں جو کچھ دنوں کے بعد ملک خضر حیات خان صاحب نے کیا انہوں نے کہا کہ صاحبزادہ صاحب کہتے ہیں کہ میں تحریر تو نہیں دے سکتا۔آپ میری طرف سے ضمانت دے دیں۔مگر میں ان کی ضمانت کس طرح دے سکتا ہوں کیونکہ میں انہیں پوری طرح جانتا نہیں۔میں نے ملک صاحب سے کہا۔ہمارا وعدہ تو آپ سے ہے۔آپ جس کے متعلق فیصلہ کریں گے ہم اس کے حق میں ووٹ دے دیں گے۔آخر جب دو فروری تک کوئی فیصلہ نہ ہوا تو سیالکوٹ کے نمائندے میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے اس بارہ میں مشورہ طلب کیا۔میں نے انہیں سارا معاملہ بتا کر کہا کہ چودھری اسد اللہ خان صاحب کے پاس چلے جائیں میں نے انہیں سب معاملہ سمجھا دیا ہے۔وہ ملک صاحب سے پوچھ کر آخری فیصلہ آپ کو بتا دیں گے۔جو وہ کہیں وہی میری رائے سمجھی جائے۔چنانچہ میں نے سب بات لکھ کر چودھری اسد اللہ خان صاحب کو بھجوادی۔جب چودھری صاحب نے ملک خضر حیات خان صاحب سے دریافت کیا کہ صاحبزادہ فیض الحسن صاحب کے متعلق کیا فیصلہ ہوا ہے؟ تو ملک صاحب نے یا ان کے سیکرٹری نے چودھری صاحب سے کہا کہ صاحبزادہ صاحب کہتے ہیں کہ میں تحریر نہیں دے سکتا۔آپ ضمانت دے دیں اور ہم ضمانت نہیں دے سکتے۔ویسے وہ ہمارے ہی آدمی ہیں۔اگر آپ پسند کریں تو ان کو ووٹ دے دیں۔شیخ بشیر احمد صاحب نے یہ بات مجھے فون پر کہی۔تو میں نے ان سے کہا کہ ملک خضر حیات خان صاحب سے کہیں کہ ہماری پسند اور ناپسند کا تو سوال ہی نہیں ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم آپ کے آدمی کو ووٹ دیں گے اور ہم اپنا وعدہ پورا کریں گے۔اس طرح غالباً تین فروری کو صاحبزادہ فیض الحسن صاحب کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ