خطبات محمود (جلد 27) — Page 92
*1946 92 خطبات محمود اہمیت دی کہ جماعت میں لڑائی پیدا کر دی۔الیکشن میں ووٹ دینا کوئی دینی معاملہ نہ تھا۔دینی معاملہ یہ تھا کہ وہ اپنے اندر اتحاد قائم رکھتے۔قومی اتحاد احکام دینیہ میں سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا 2 تم اللہ تعالیٰ کی رسی کو پورے زور سے پکڑ لو تو تمہارے اندر کمزوری پیدا نہیں ہو گی۔اور جو جماعت نظام کی رستی کو چھوڑ دے گی وہ کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکے گی۔پس یہ سزا ان کو نظام کی رسی چھوڑنے کی وجہ سے دی گئی ہے۔اکثریت جس کے حق میں فیصلہ کیا گیا تھا۔ان میں سے بعض نے مجھے لکھا ہے کہ ہمیں تو معاف کیا جائے ہم نے تو شور و شر نہیں کیا۔میں نے ان کو جواب دیا ہے کہ بے شک تم نے شور و شر نہیں کیا لیکن جب تمہیں علم ہو گیا تھا کہ میں نے اس تفرقہ کو نا پسند کیا ہے تو تمہارا فرض تھا کہ تم تفرقہ نہ ہونے دیتے۔تم دوسری پارٹی سے کہہ دیتے کہ نہ ہم اِدھر ووٹ دیتے ہیں نہ آپ اُدھر ووٹ دیں۔گورنمنٹ کا کوئی قانون آپ لوگوں کو ووٹ دینے پر مجبور نہیں کرتا تھا لیکن اب ووٹ دے کر اور جماعت میں تفرقہ پیدا کر کے معافی مانگنا کیا معنے رکھتا ہے۔یہ کمزوریاں ہیں جو جماعت کے ایک طبقہ سے ظاہر ہوئی ہیں۔مگر ان باتوں کا معلوم ہو جانا بھی ہمارے لئے ایک خوش قسمتی کی بات ہے۔اگر یہ باتیں جماعت میں رائج ہو جاتیں تو پھر ان کا دُور کرنا بہت مشکل ہو جاتا۔اب ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ابھی جماعت کے لئے الیکشنوں کا امتحان باقی ہے۔روپے کا امتحان آیا تو ہم نے شاندار کامیابی حاصل کی، وقف زندگی کا امتحان آیا تو ہم نے شاندار کامیابی حاصل کی، تحریک جدید کا امتحان آیا تو ہم نے شاندار کامیابی حاصل کی۔اب الیکشن کے امتحان میں بھی انشاء اللہ ہم ہی جیتیں گے۔یہ اچھا ہوا کہ ہمیں اپنی کمزوریوں کا علم ہو گیا ہے۔غرض اس موقع پر تین قسم کی کمزوری دکھائی گئی ہے۔بعض لوگوں نے جماعتی نظام کے خلاف کیا اور تفرقہ کی صورت پیدا کی ہے یعنی انہوں نے الیکشن کو مقدم اور جماعتی نظام کو مؤخر کر دیا۔اور بعض جگہ ایسا ہوا ہے کہ انہوں نے کیا تو وہی جو جماعتی طور پر پاس ہوا تھا مگر وہ جماعتی فیصلے جماعتی فیصلے نہیں تھے۔اصل میں ذاتی فیصلے تھے اور بعض جگہ پر یہ تیسری بات بھی نمایاں ہوئی کہ بعض لوگوں نے جماعتی نظام کو توڑ دیا۔جماعت نے کثرت رائے سے ایک فیصلہ کیا اور بعض لوگوں نے کثرت رائے کے خلاف عمل کیا۔اس قسم کے آدمی بہت کم ہیں اور شاید