خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 68

$1945 68 خطبات حمود یہ تفسیر اگر خدا تعالیٰ توفیق دے دے تو ایک مہینہ تک ہو جائے گی اور پھر اس کی وجہ سے ترتیب کے متعلق ذہنوں میں جو مشکل پید اہوتی ہے وہ حل ہو جائے گی۔اس سے پہلے مسلمان قرآن مجید پڑھتے تھے مگر ان کے ذہن میں کبھی یہ شبہ پیدا ہی نہیں ہو تا تھا کہ اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے کیا تعلق ہے اور مضمون کے لحاظ سے ان دونوں میں کیا تر تیب ہے۔کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ عم يتساءلون الگ ہے، سورۃ النازعات الگ ہے، سورہ عبس الگ ہے، ہر ایک سورۃ پہلی سورۃ سے الگ ہے اور ان میں کوئی جوڑ اور کوئی ترتیب نہیں بلکہ الگ الگ مضامین ہیں۔اس لئے ان کو اس بات کے متعلق سوچنے کی کوفت نہیں ہوتی تھی کہ ایک سورۃ کی دوسری سورۃ سے ترتیب معلوم کریں۔مگر ہم نے جہاں دنیا کے سامنے قرآن مجید کی ترتیب کا دعویٰ پیش کیا ہے وہاں لوگوں کا جھوٹا امن جو اُن کو حاصل تھا وہ بھی ساتھ ہی برباد کر دیا ہے۔پہلے تو ایک مسلمان قرآن مجید پڑھتا تھا تو یہ سمجھ کر پڑھتا تھا کہ اس کے مضامین میں کوئی ترتیب نہیں اس لئے وہ بغیر کسی شبہ کے پڑھتا چلا جاتا تھا۔خواہ یہ اس کی کمزوری تھی، خواہ یہ علم کا نقص تھا، خواہ یہ قرآن مجید کی ہتک تھی کہ کہا جائے کہ قرآن مجید کی سورتوں میں کوئی جوڑ نہیں کوئی ترتیب نہیں۔یو نہی پہلے لمبی لمبی سورتیں جمع کر دی ہیں اور آخر میں چھوٹی چھوٹی سورتیں رکھ دی ہیں۔کچھ بھی ہو بہر حال اس خیال کی وجہ سے وہ شبہات سے بچا ہوا تھا۔سب مسلمان اس خیال سے قرآن مجید پڑھتے تھے کہ اس کی سورتوں میں کوئی جوڑ نہیں اس لئے وہ اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی ترتیب اور جوڑ معلوم کرنے کی کوشش کریں۔اور ان کو مضمون کی ترتیب نکالنے کے متعلق کوئی تشویش پیدا نہیں ہوتی تھی۔جب کوئی نئی سورۃ شروع ہوتی تو وہ یہی سمجھتے کہ اب ایک نیا مضمون شروع ہوا ہے جس کا پہلی سورۃ کے مضمون سے کوئی تعلق اور جوڑ نہیں۔مگر جب ہماری طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ سارا قرآن مجید باترتیب ہے اور ہر ایک سورۃ اپنے سے پہلی سورۃ کے ساتھ ملتی ہے اور ان کے اندر ایک فلسفیانہ اور عقلی جوڑ پایا جاتا ہے تو ہمارے اس دعویٰ سے وہ جو جھوٹا امن حاصل تھا کہ قرآن مجید کی ترتیب نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں وہ جھوٹا امن بھی جاتا رہا۔اب ایک احمدی یہ نہیں کہہ سکتا کہ چلو سورۃ النباء کے بعد سورۃ النازعات آگئی اور اب ایک نیا مضمون شروع ہو گیا جس کا پہلی