خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 65

$1945 65 خطبات محمود تبلیغ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک ہماری جماعت میں ایسے لوگوں کی کافی تعداد موجود نہ ہو جو ہندی، گورمکھی اور بنگالی، مرہٹی، تاملی وغیرہ جاننے والے ہوں۔کیونکہ ہندوؤں میں تبلیغ کرنے کے لئے ہندی زبان اسی طرح ہے جس طرح مسلمانوں کے لئے اردو۔گویا ہندی اور اردو کے دو الگ الگ دریا بہتے ہیں جو آپس میں ملتے نہیں۔قرآن مجید میں آتا ہے۔مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِينِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يَبْغِينِ ) که دو دریا پاس پاس بہتے ہیں لیکن ان کے در میان بر زخ ہے اور وہ آپس میں ملتے نہیں۔اسی طرح ہندی اور اردو بھی دو الگ الگ دریا ہیں جو سارے ہندوستان پر چھائے ہوئے ہیں۔مگر اردو کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ جو ہندی جاننے والے ہیں ان میں سے اکثر اردو بھی جانتے اور سمجھتے ہیں۔مگر مسلمان جو اردو جاننے والے ہیں ان میں بہت کم لوگ ہیں جو ہندی جانتے ہیں۔گویا اردو کا دریا ہندی پر بھی چھایا ہوا ہے۔لیکن ہندوؤں میں سے بعض لوگ جو گاؤں کے رہنے والے ہیں وہ ہندی کے ذریعہ تو باتیں سمجھ سکتے ہیں مگر اردو کے ذریعہ سے ان کے اندر وہ اثر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ان کو مؤثر طور پر تبلیغ کرنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمارے اندر ہندی اور سنسکرت جاننے والے ہوں۔اس وقت تک جماعت نے اس طرف توجہ نہیں کی۔بہت کم لوگ ہیں جو ہندی جانتے ہیں۔پس جہاں میں جماعت کو یہ اطلاع دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ستیارتھ پر کاش کا جواب شائع کرنے کا کام جلد جلد ہو رہا ہے وہاں میں جماعت کو اس طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ہندوؤں اور سکھوں میں موئثر طور پر تبلیغ کرنے کے لئے کثرت سے ہندی اور گورمکھی وغیرہ جانے والے ہونے چاہئیں۔یہ تو ایک ضمنی بات تھی اصل بات میں یہ کہہ رہا تھا کہ ستیارتھ پرکاش کا جواب لکھا جا رہا ہے اور اس میں تین باتوں میں میر احصہ ہے۔اول یہ کہ کوئی دلیل کمزور نہ ہو۔دوسرے یہ کہ عام ہندوؤں کی طرف خطاب نہ ہو بلکہ صرف آریہ سماج مخاطب ہو۔تیسرے یہ کہ کوئی سخت کلامی نہ ہو۔اور ان تینوں باتوں کے لحاظ سے میں اس مضمون کو دیکھ چکا ہوں جو اس وقت تک تیار ہو چکا ہے۔دوسرا کام قرآن مجید کی تفسیر شائع کرنے کا تھا۔چنانچہ روزانہ جماعت کے چھ سات سو