خطبات محمود (جلد 26) — Page 460
$1945 460 خطبات محمود پھر ایک دو ماہ قادیان آگر آرام کریں اور پھر دورہ شروع کر دیں تو میں سمجھتا ہوں اگر چوبیں پچھیں لیکچرار آہستہ آہستہ تیار ہو جائیں تو اس سال میں بڑی بڑی تمام جگہوں پر تین تین چار چار دفعہ تقریریں ہو جائیں گی۔اگر ایک جلسہ اور دوسرے جلسہ کے درمیان کا فاصلہ ایک ہفتہ رکھا جائے اور پھر چھٹیاں بھی نکال دی جائیں تو ہر انسان چالیس لیکچر دے سکے گا۔اگر تیں لیکچر بھی سمجھ لئے جائیں اور چوبیس آدمی ہوں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ سال بھر میں سات سو میں لیکچر ہو جائیں گے۔اگر سو بڑے بڑے شہروں میں لیکچر دیئے جائیں تو سات لیکچر ایک شہر میں ہو جائیں گے۔یہ کتنا عظیم الشان کام ہو گا۔سات لیکچر ہونے کے معنے یہ ہیں کہ لوگوں کو ہر دوسرے مہینے لیکچر سننے کا موقع مل جائے گا۔اس کے لئے نظارت دعوۃ و تبلیغ کو چاہیے فوڑا ایک ایک انگریزی دان، عربی دان ، ہندو، سکھ مذاہب سے واقفیت والے آدمی تیار کرے۔ان کا کام یہ ہو گا کہ وہ تمام ہندوستان میں دورہ کر کے تقریریں کریں۔ان کے لئے تقاریر کا پروگرام مرکز تجویز کرے گا۔ہاں اگر ضرورت کے موقع پر وہ کوئی اور لیکچر بھی کسی جگہ دے دیں تو اس میں حرج نہیں ہو گا۔اس کے ساتھ ہی جماعت میں تحریک کی جائے کہ بڑے بڑے شہروں کی جماعتیں اپنے ہاں مشورہ کر کے ہمیں بتائیں کہ وہ کس کس وقت جلسہ کرانا چاہتی ہیں۔میرے نزدیک اگر پنجاب میں جنوری، فروری اور مارچ کے مہینوں میں دورے کئے جائیں اور اپریل کا مہینہ چھٹی کر دی جائے کیونکہ یوپی میں اپریل مئی کے مہینوں میں شدید گرمی ہوتی ہے اس لئے کام نہیں ہو سکتا۔پھر جون، جولائی اور اگست میں یوپی اور بہار کا دورہ کیا جائے اور ستمبر، اکتوبر نومبر اور دسمبر میں بنگال آسام کا دورہ ہو تو دو سال میں سارے ہندوستان کا دورہ ہو جائے گا۔لیکن اگلے سال تک اگر دوسری پارٹی تیار ہو جائے تو ان دو پارٹیوں میں سے ایک پارٹی شمالی ہند کا دورہ کر سکتی ہے اور دوسری جنوبی ہند کا۔اس طرح ایک ہی وقت میں سارے ملک میں آوازیں بلند کی جاسکتی ہیں۔ان دوروں کے وقت جو اعتراضات ان مبلغین پر ہوں وہ اُن کو جمع کرتے چلے جائیں اور جب وہ ایک مہینہ کی چھٹی پر قادیان آئیں تو ان کی روزانہ مجلس ہو جس میں اُن سوالوں کے جواب تیار کئے جائیں اور جو مشکلات اُن کو پیش آئیں ان کو مد نظر رکھ کر آئندہ پروگرام بنایا جائے۔اس طریق سے ایک