خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 434

+1945 434 خطبات محمود نکال لیتے ہیں۔مگر ہمارے ملک کے لوگ علم کی کمی کی وجہ سے اکثر کاموں میں ناکامی کا منہ دیکھتے ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جو کام کیا جاتا ہے وہ علم کے ماتحت نہیں۔بلکہ پہلے رواج کے ماتحت کیا جاتا ہے۔جس طرح پہلے لوگوں نے کیا اُسی طرح بعد میں آنے والے اُس کو کرتے جارہے ہیں۔کوئی ترمیم اس میں نہیں کی جاتی۔مثلاً پنجاب کا زمیندار عام طور پر ضرورت سے زائد جانور نہیں پالتا اور زراعت کا کام زیادہ کرتا ہے۔لیکن اسکے مقابل پر سندھی زمیندار جانور زیادہ پالتا ہے اور زراعت کی طرف کم توجہ کرتا ہے۔ایک پنجابی جب سندھ میں جاتا ہے تو اُس کا سندھی کاشتکار کے ساتھ ٹکراؤ ہو جاتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ زمین خالی پڑی ہے اور اُس نے پندرہ ہیں یا پچیس تیس گائیں رکھی ہوئی ہیں اور سارا دن اُن کو چارہ وغیرہ کھلانے میں گزار دیتا ہے زمین کی طرف توجہ نہیں کرتا۔پنجابی زمیندار اس طریق کو اپنے لئے مُضر سمجھتا ہے۔لیکن اگر ہمارے ملک میں تعلیم بڑھ جائے تو یہ ساری دقتیں آپ ہی آپ دور ہو جائیں۔کل کے اخبار میں میں نے ایک امریکن شخص کا مضمون پڑھا ہے۔وہ ہندوستان کے متعلق کہتا ہے کہ ہندوستانی جن گڑوں کے ذریعہ کام کرتے ہیں اگر ان کو چھوڑ دیں اور ہلکی قسم کے گڈے استعمال کریں تو ان کی مالی حالت بہت حد تک درست ہو سکتی ہے۔جو گڑے آجکل ہیں وہ بہت پرانی طرز کے ہیں اور بہت بوجھل ہیں۔ان میں جانوروں کو بہت زیادہ طاقت صرف کرنی پڑتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ چلتے ہیں۔وقت بہت صرف ہو تا ہے۔اگر ہلکی قسم کے گڑے ہندوستانی لوگ استعمال کریں تو بہت زیادہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔اگر گڈے ہلکے ہوں تو ان میں ایک بیل بھی کام دے سکتا ہے اور وقت بھی تھوڑا صرف ہو۔جب میں نے اِس مضمون کو پڑھنا شروع کیا تو پہلے میں نے اسے غیر معقول خیال کیا لیکن جوں جوں پڑھتا گیا میرا دل مانتا گیا کہ اگر ہندوستانی لوگ اِس طرف توجہ کریں تو بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ہمارے ملک کا پرانا گڈا جس کو دو بیل بڑی مشکل سے کھینچتے ہیں اور سارے دن میں ایک دفعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بوجھ لے جاتے ہیں اگر ہلکا ہو تو خواہ دو دفعہ بھی اس بوجھ کو لے جائے پھر بھی آسانی سے اور آدھے وقت میں وہ بوجھ لے جائے گا۔غرض بہت چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے