خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 393

$1945 393 خطبات حمود اُسی دن چند آدمیوں کو سنا دیا تھا گو اخبار میں نہیں دیا تھا کہ جر منی طاقت پکڑ گیا ہے اور اس کے غلبہ سے متائثر ہو کر حکومت انگلستان نے حکومت فرانس سے درخواست کی ہے کہ ہم اور تم ایک ہو جائیں اور اپنی قومیتوں کو متحد کر دیں۔یہ اس قسم کا واقعہ تھا کہ اس کی ایک بھی مثال تاریخ میں نہیں پائی جاتی۔ایسے خبیث بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں جنہوں نے آپ زمزم میں پیشاب کرنے کی کوشش کی، ایسے بھی پائے جاتے ہیں جنہوں نے نبیوں کو قتل کرنے کی کوشش کی، ایسے بھی تھے جنہوں نے خانہ کعبہ کو گرانے کی کوشش کی، ایسے بھی پائے جاتے ہیں جنہوں نے ظلم سے دوسری چھوٹی قوموں کو اپنے قبضہ میں لانے کی کوشش کی۔ہر قسم کی برائیوں والے پائے جاتے ہیں اور ہر قسم کی خوبیوں والے بھی پائے جاتے ہیں۔لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا کہ برابر کی دو قوموں میں سے کسی ایک نے دوسری کو متحدہ قومیت کی دعوت دی ہو۔یہ دنیا میں پہلی مثال تھی۔اس لئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ خیال اور قیاس تھا کیونکہ خیال اور قیاس سے اخذ کی ہوئی بات ایسی ہوتی ہے جو دس سال میں ایک دفعہ وقوع میں آچکی ہو۔ہیں سال میں ایک دفعہ وقوع میں آچکی ہو۔یا سو سال میں ایک دفعہ وقوع میں آچکی ہو۔یا ہزار سال میں ایک دفعہ وقوع میں آچکی ہو۔یا دس ہزار سال میں ایک دفعہ وقوع میں آچکی ہو۔یا لا کھ ، دس لاکھ ، کروڑ سال میں ایک دفعہ وقوع میں آچکی ہو۔یا جب سے کہ نسل انسانی جاری ہوئی ہے اُس وقت سے لے کر اس وقت تک ایک دفعہ ہی وقوع میں آچکی ہو۔ایسی بات کے متعلق لوگ کہہ سکتے ہیں کہ خواب شاید خیال کا اثر ہو پچھلے ہیں سال کے عرصہ میں ایک ایسا واقعہ ہو گیا تھا۔اگر سو سال کے عرصہ میں ایسا ہو جاتا تو کہہ سکتے تھے کہ سوسال کی بات ہے اب خیال میں آگئی۔اگر ہزار سال کے عرصہ میں ایسا ہو جاتا تب بھی کہہ سکتے تھے کہ پچھلے ہزار سال میں ایک دفعہ ایسا ہو گزرا ہے۔کہیں پڑھا ہو گا خیال میں آ گیا، پر آدم کی پیدائش سے لے کر اب تک چھ ہزار سال ہمارے مذہب کی رو سے اور لکھو کھہا سال سائنسدان لوگوں کی روسے ہو گئے۔لیکن ان لکھو کھہا سالوں یا چھ ہزار سال میں کروڑہا آدمی جو ہر زمانہ میں ہوتے چلے آئے ہیں اور سینکڑوں حکومتیں ہوتی چلی آئیں ان میں سے کسی پر بھی ایسا واقعہ نہیں گزرا۔گویا آدم سے لے کر 1940 ء تک دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال کہیں نہیں پائی جاتی۔مگر چونکہ